دنیا میں طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں۔ پیوٹن

خصوصی رپورٹ:

روس کے صدر ولادیمیر پوٹین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں، بھارت اور چین روس کے قریبی ترین دوست ہیں اور ماسکو کے ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے “نووستی” کے مطابق ولادیمیر پوٹین نے “انڈیا ٹوڈے” میگزین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور نئی طاقتوں کے مراکز ابھر رہے ہیں،  ایسے حالات میں بڑی طاقتوں کے درمیان استحکام برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہی استحکام دو طرفہ بین الاقوامی تعلقات کی مضبوط بنیاد بنتا ہے۔

پوٹین کے مطابق آج کی دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور عالمی نظام کی مجموعی ساخت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، دنیا میں تیزی سے ابھرتے ہوئے نئے مراکز تشکیل پا رہے ہیں، خصوصاً جنوبی دنیا (گلوبل ساؤتھ) تیزی سے ترقی کر رہی ہے، میری مراد جنوبی ایشیا ہے، صرف بھارت ہی نہیں بلکہ انڈونیشیا بھی مضبوطی سے ابھر رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سلسلے میں بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ مشترکہ تعاون نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ تعاون صرف دو طرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہتا، اگرچہ دنیا ہمیشہ تبدیل ہوتی رہی ہے مگر تبدیلی کی موجودہ رفتار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ان کے مطابق مستقبل میں بھی عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیاں تیز ہوں گی اور اس عمل کا انحصار نہ یوکرین کی صورتحال پر ہے اور نہ اس کا تعلق دنیا کے باقی تنازعات سے ہے، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کا مقصد کبھی بھی دوسروں کی ترقی روکنا نہیں رہا، اور اس تنظیم کا ایجنڈا ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ انٹرویو میں پوٹین نے زور دے کر کہا کہ بھارت اور چین روس کے نزدیک ترین دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین ہمارے سب سے قریبی دوست ہیں، ہم ان تعلقات کی بہت قدر کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ بھارت اور چین کے رہنما اپنی بصیرت کی بنیاد پر باہمی اختلافات کے حل کے لیے راستہ نکال لیں گے۔

بھارت روس تجارتی تعلقات:
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں روس اور بھارت کا تعاون موجودہ جیوپولیٹیکل حالات کے باوجود بغیر کسی تبدیلی کے برقرار ہے۔ پوٹین کے مطابق، کچھ عالمی طاقتیں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے خوش نہیں ہیں، خصوصاً بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات کے باعث، اور وہ اس کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پوٹین نے کہا کہ روس اور بھارت دونوں اس بات سے واقف ہیں کہ باہمی تجارت میں عدم توازن موجود ہے، لیکن بھارت نے کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کیونکہ بھارت کو روسی وسائل کی ضرورت ہے۔

پوٹین کے مطابق بھارت کو روسی تیل، تیل کی مصنوعات اور کیمیائی کھاد کی ضرورت ہے، روس اور بھارت اس بات پر متفق ہیں کہ تجارتی عدم توازن کو دور ہونا چاہیے، لیکن پابندیوں کے ذریعے نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ روسی تیل کی برآمدات بھارت کو مسلسل جاری ہیں، اور روسی شراکت دار بھارتی کمپنیوں کو انتہائی قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔ پوٹین نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ روسی ایندھن خرید سکتا ہے تو بھارت کو بھی ایسا کرنے کا حق ہے۔ پوٹین کا کہنا تھا کہ میں کبھی دوسرے عالمی رہنماؤں پر تبصرہ نہیں کرتا، نریندر مودی کبھی بھی اپنی پالیسی کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بناتے، بلکہ ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کی نیک نیتی پت مبنی فیصلہ سازی:
جب ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں رائے مانگی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ کبھی کسی دوسرے رہنما کی کارکردگی پر تبصرہ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کا سربراہ اپنی قومی دلچسپی کے مطابق کام کرتا ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور وہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیک نیتی رکھتے ہیں۔

فلسطین کے مسئلے کا واحد حل، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل:
پوٹین نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل وہ قراردادیں ہیں جو سالوں سے اقوام متحدہ میں منظور کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ہے۔ انہوں نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو تمام مسائل کا کلیدی حل قرار دیا۔

ذمہ دار افغانستان:
پوٹین نے کہا کہ افغانستان کی حکومت دہشت گردی اور منشیات کے خلاف نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو دیگر ممالک کی طرح اپنی مشکلات کا سامنا ہے، وہ داعش اور دیگر گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔ افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پوٹین نے آخر میں کہا کہ روس، بھارت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل حمایت کرتا ہے۔

Scroll to Top