جاپانی حکومت نے ملک میں رہنے والے مسلمانوں سے متعلق ایک حیران کن فیصلہ کیا ہے، اس فیصلے کے مطابق اب مسلمانوں کو تدفین کے لیے جگہ نہیں ملے گی۔
اطلاعات کے مطابق جاپان میں حکومت نے مسلمانوں سے متعلق ایک حیران کن فیصلہ کیا ہے، جو موضوع بحث بن گیا ہے۔ حکومت نے مسلم طبقہ کو تدفین کے لیے نئی زمین الاٹ کرنے سے صاف طور پر منع کر دیا ہے۔
جاپانی حکومت کے افسران کا کہنا ہے کہ ’’ملک میں پہلے سے ہی جگہ کی شدید قلت ہے اور شہروں میں آبادی کے اضافے سے مزید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔‘‘
اطلاعات کے مطابق جاپانی حکومت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ مسلمانوں کو قبرستان کے لیے نئی زمین نہیں دی جائے گی۔ اس کے بجائے جنازوں کو ہوائی جہاز سے ان کے آبائی ملک بھیجنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے وہاں رہنے والے مسلم خاندانوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہوگا۔
“پیو” تحقیقی مرکز کے مطابق جاپان میں 2010 میں مسلمانوں کی آبادی ایک لاکھ پچاسی ہزار تھی جو 2024 میں بڑھ کر 3 لاکھ پچاس ہزار ہوگئی۔ جاپانی مسلمانوں میں 90 فی صد مہاجر ہیں اور باقی 10 فی صد اصل جاپانی ہیں جنہوں نے دین اسلام قبول کیا۔ جاپان کی کل آبادی 12 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔
تحقیق کے مطابق جاپان میں مساجد کی تعداد 113 ہے جو 2001 میں صرف 24 تھی۔ زیادہ تر مساجد میں 30 سے 50 نمازیوں تک کی ہی گنجائش ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ جاپان میں مسلم طبقہ کئی سال سے قبرستان کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن اب حکومت نے واضح طور پر انہیں زمین دینے سے منع کر دیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جاپانی حکومت کے اس فیصلہ سے مائیگریشن پالیسیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ مزدوروں کی کمی کے اس دور میں جاپان کو ہنر مند مزدوروں کی سخت ضرورت ہے۔ اس قدم سے ملک کی معاشی ترقی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔