عالمی نفرت؛ نسل کُشی کی حمایت کا ثمرہ
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے دفتر سے شائع ہونے والا اداریہ
غزہ میں بڑے ترین جرائم انجام دے کر صہیونی رژیم نے نہ صرف ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی نفرتانگیز حیثیت کو ثابت کر دیا اور ایک زیادہ تنہا رژیم میں تبدیل ہوگئی، بلکہ اس نے امریکہ کو بھی اپنے ساتھ گھسیٹ کر دنیا میں نفرت کا نشانہ بنا دیا۔
امریکہ، جعلی اسرائیلی رژیم کے 1948 میں قیام کے بعد سے، اس کا سب سے بڑا مالی اور فوجی حامی رہا ہے۔ کونسل برائے خارجہ تعلقات (CFR) کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے 2022 تک 310 ارب ڈالر سے زیادہ (مہنگائی شامل کرکے) امداد حاصل کی، جس کا تقریباً 71 فیصد حصہ فوجی امور پر خرچ ہوا۔
غزہ کی جنگ میں اس حمایت کی انتہا نظر آئی۔ واشنگٹن کی جانب سے صہیونی رژیم کی کھلی حمایت خصوصاً جدید اسلحہ بھیجنے، فوجی بجٹ اور سیاسی پشت پناہی کے میدان میں نے امریکہ کو ایک مجرم رژیم کا براہِ راست شریک بنا دیا۔
یہی وجہ عالمی سطح پر امریکہ کی پالیسیوں سے شدید نفرت کا سبب بنی اور اس ملک کی نرم قوت (Soft Power) کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
پیو ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، تحقیق کیے گئے 24 ممالک میں سے 49 فیصد عوام امریکہ اور اس کے عالمی کردار کو منفی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
رپورٹ میں 15 ممالک میں امریکہ کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی رائے عامہ، امریکہ کو انسانی بحرانوں کے مسلسل پیدا ہونے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔
یہ منفی تصویر خصوصاً یورپی اور لاطینی امریکی ممالک میں زیادہ نمایاں ہے، اور اس نے واشنگٹن کی سفارتی مشروعیت کو چیلنج کا سامنا کردیا ہے۔
غزہ کے خلاف جنایات میں اس شراکت کے اثرات صرف بیرونی دنیا تک محدود نہیں رہے۔ امریکہ کے اندر بھی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی حمایت کے بارے میں عوامی رائے تبدیل ہو رہی ہے۔ گالوپ کے 2025 سروے کے مطابق، صرف 32 فیصد امریکی بالغ افراد نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کی جبکہ 60 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔
ڈیموکریٹس اور آزاد خیال ووٹروں میں مخالفت کی شرح مزید بڑھ گئی ہے، اور نوجوانوں میں یعنی 18 سے 29 سال کے افراد میں آدھے سے زیادہ امریکی اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کے خلاف ہیں۔
اسی طرح اسرائیل کے بارے میں امریکی عوام کا رویہ بھی غزہ کی جنایات کے بعد تبدیل ہوا ہے، اور اب 59 فیصد امریکی بالغ افراد صہیونی رژیم کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں۔
اس کے برعکس، فلسطینی عوام کے بارے میں امریکی رائے مثبت رہی ہے، اور بعض گروہوں میں اس میں اضافہ بھی ہوا ہے؛ چنانچہ 52 فیصد امریکی عوام فلسطینی عوام کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔
یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ کی سرکاری حمایت جو غزہ میں بڑھتے ہوئے عام شہریوں کے قتلِ عام اور انسانی بحران کے ساتھ جڑی ہوئی ہے نے امریکی خارجہ پالیسی اور اندرونی عوامی رائے کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا کردی ہے۔
مجموعی طور پر، غزہ میں اسرائیل کی جنایات اور امریکہ کی غیر مشروط حمایت نے نہ صرف ایک انسانی بحران اور وسیع تباہی کو جنم دیا، بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ اور نرم قوت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
15 ممالک میں واشنگٹن کی مقبولیت میں کمی اور اندرونی سطح پر منفی رائے میں اضافہ یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اب صرف فوجی طاقت کے سہارے اپنی مشروعیت برقرار نہیں رکھ سکتا، اور جب تک خارجی پالیسی میں بنیادی نظرِثانی نہیں کی جاتی، عالمی اور داخلی رائے عامہ میں اپنے سابقہ مقام پر واپسی اس کے لیے بہت مشکل ہوگی۔