سپیکر قومی اسمبلی سردار آیاز صادق نے کہا ہے کہ یہ میری ذمہ داری کہ پارلیمنٹ کو تحفظ دوں،ریاست کیخلاف باتیں کرنا غیر مناسب ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا،اجلاس کے آغاز پر سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ کل ایک ممبر نے ایسی باتیں کیں جس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں،انہوں نے اپوزیشن لابی میں یہ کہا کہ وہ چیئر تک جائیں،انہوں نے شوق پورا کرنا ہے، ضرور کرلیں۔
سپیکر قواسمبلی نے کہا کہ ایک رکن نے بیان دیا کہ عوام کو استعمال کرکے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کارروائی کو چلنے نہیں دیں گے،یہ میری ذمہ داری کہ پارلیمنٹ کو تحفظ دوں ،ریاست کے خلاف یہ باتیں کرنا غیر مناسب ہے،اس کو ہم سب مل کے روکیں گے۔
سپیکر نے 2014 کے دوران اپنی صدارت کے وقت پیش آئے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں چٹھی کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ5منٹ میں باہر نہ گئے تو ان کے تو کزن اور برادر اندر آ کر جانی نقصان پہنچائیں گے،انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم نہیں جائیں گے۔
حکومتی رکن شمائلہ رانا نے محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ ایوان ایسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دار بیانات کی مذمت کرتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہرخان نے کہا کہ اگر جمہوریت کا لحاظ نہ ہوتا تو وہ آج ایوان میں موجود نہ ہوتے،ایوانوں میں جھگڑے ہوتے رہتے ہیں مگر اختلافات کو بڑھانے کے بجائے تحمل سے حل کرنا چاہیے۔
بیرسٹرگوہر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی 30 سال سے جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور جنرل ضیاء الحق کی آٹھویں ترمیم کو بھی انہوں نے چیلنج کیا تھا،انہوں نے کہا کہ ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ ہم نے ایوان میں حملہ آور نہیں ہونا تھاجو بھی ہوا وہ باہر ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہیں،ہمارے اوپر لوگ حملہ آور ہوگئے، حکومت کے کئی وزراء گورنر راج کی بات کرتے رہے،آپ کے آدھے سے زیادہ منسٹر کہہ رہے تھے وہاں گورنر راج لگانا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کو متحد رکھنے کی کوشش کریں اور تقسیم کو کم کریں۔
سپیکر ایاز صادق نے گوہر سے پوچھا کہ بطور اسپیکر ان کا کردار اب تک کیسا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان کے دروازے ہر وقت کھلے رہے اور وہ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ ایوان خوش اسلوبی سے چلے۔
اپوزیشن رکن کے جملے پر سپیکر نے جواب دیا کہ ابھی تو بہت کچھ ہوگاتاہم سپیکر نے زور دیا کہ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر وہ پارلیمنٹ کا تقدس برقرار رکھیں گے۔
سپیکر کا کہنا تھا کہ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے،آپ لوگ واک آؤٹ کر جاتے ہیں،قائمہ کمیٹیوں میں نہیں آتے،بات چیمبر میں کی جائے، دھمکیوں اور دباؤ سے نہیں۔