پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیرِ خارجہ محمد احمد بدر عبدالعاطی نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی، معاشی، دفاعی اور ثقافتی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم اور غزہ، کشمیر، افغانستان اور علاقائی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مصری وزیرِ خارجہ کا دورہ دونوں ممالک کے تاریخی، مذہبی اور دوستانہ تعلقات کا مظہر ہے،ملاقات میں دوطرفہ تجارت بڑھانے اور نئے تعاون کے شعبوں پر اتفاق ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ تجارت کا حجم 300 ملین ڈالر ہے، جسے بڑھانے کے لیے پاکستان مصر کو 250 بزنس ہاؤسز کی فہرست فراہم کرے گا جو 6 ماہ میں 500 تک بڑھا دی جائے گی،پاکستان مصر بزنس کونسل اور پاکستان مصر بزنس فورم قائم کیے جائیں گے، جن کا پہلا اجلاس اگلے سال قاہرہ میں ہوگا۔
انہوں نے الازہر یونیورسٹی کے لیے اسکالرشپس میں اضافے پر مصر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہاں پاکستانی علما کو انتہا پسندی کے خاتمے سے متعلق قرآن و سنت کی روشنی میں تربیت دی جائے گی، کہا کہ ہم جامعہ الازہر کو یہاں انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے انگیج کر سکتے ہیں۔
مصری وزیرِ خارجہ نے اسلام آباد اور پشاور میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا مقابلہ ناگزیر ہے اور مصر پاکستان کے ساتھ اپنا تجربہ شیئر کرے گا کہ کس طرح ایک جامع اور ہمہ جہت حکمتِ عملی کے ذریعے مصر نے دہشتگردی کو شکست دی۔
ان کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات نہیں، بلکہ سماجی اور معاشی پہلوؤں پر بھی کام کیا گیا۔ مصر پاکستان کے ساتھ مل کر دہشتگردی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مصری وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مصر نے پاکستان کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا اور دونوں ممالک امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے اور فلسطین کی خود مختار ریاست کے قیام کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
مصری وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور مصر جیو پولیٹیکل مفادات کے ساتھ ساتھ مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بھی مضبوطی سے جڑے ہیں، اور دونوں ممالک عالمی فورمز پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔