پاکستان کے وزیر دفاع نے فلسطینیوں کی حمایت اور صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے کی مخالفت کو اس ملک کےعوام کے اعتقاد کا ایک حصہ قرار دیا اور اسرائیل کے ساتھ مصالحت کے لئے اسلام آباد کی طرف سے پس پردہ کسی بھی مذاکرات کو مسترد کردیا
پاکستان کےوزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے برلن میں ڈوئچے ویلے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان غاصب اسرائیلی حکومت کے ساتھ مصالحت کے کسی بھی عمل میں شامل نہیں ہے۔
انہوں نے صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے کسی بھی پس پردہ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی حمایت ہمارے عقائد کا حصہ ہے اور پاکستان کے پاسپورٹ میں بھی لکھا ہے کہ ہم اسرائیل کو قبول نہیں کرتے۔
اس سوال کے جواب میں کہ آیا ان کا ملک غزہ میں بین الاقوامی امن فوج میں شامل ہو گا، پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ ہاں، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات میں تعطل کے حوالے سے بھی کہا کہ ہم سے طالبان کوسمجھنے اور ان سے امیدیں وابستہ کرنے میں غلطی ہوئی۔ اور گذشتہ تین برسوں میں ان کے رویوں سے ثابت ہوگیا کہ وہ قابل اعتماد نہیں ہیں-