صیہونی حکومت نے فلسطینی عوام کے خلاف اپنے جرائم کو جاری رکھتے ہوئے جمعرات کی صبح سے اب تک جنگ بندی کی سولہ بار خلاف ورزی کی ہے، جن میں فضائی اور توپ خانے کے حملے اور وسیع پیمانے پر فائرنگ اور گھروں کو تباہ کرنا شامل ہے۔جارح صیہونی حکومت کے ان فوجی حملوں کے نتیجے میں چھ فلسطینی شہید ہوئے، جن میں سے دو کو غاصب فوجیوں نے غزہ کی پٹی میں یلو لائن کے علاقوں میں نشانہ بنایا۔
جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں کے دوران غاصب فوج نے غزہ شہر پر متعدد بار فضائی حملے کیے۔ اس نے غزہ پٹی کے وسط میں البریج کیمپ کے مشرق میں بھی توپ خانے سے حملہ کیا۔
اسی طرح التفاح اور الشجاعیہ کے علاقوں پر بھی فضائی حملوں کے ساتھ ہی، صیہونی حکومت کے ڈرونز نے غزہ پٹی کے مشرقی علاقوں میں وسیع پیمانے پر جاسوسی کی پروازیں کیں۔
جارح صیہونی حکومت کے فوجی طیاروں نے خان یونس شہر پر بھی بمباری کی جس سے شہر کے مشرق میں متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ اسی دوران قابض فوج کے فوجی ہیلی کاپٹروں نے ییلو لائن کے اندر بڑے پیمانے پر فائرنگ کی۔
رفح شہر میں بھی آج صبح سے صیہونی فوجیوں دو مرحلے میں شدید فضائی حملے کئے اسی دوران صیہونی حکومت کے فوجی ہیلی کاپٹروں نے فائرنگ بھی کی۔
دوسری جانب صیہونی حکومت غزہ کے باشندوں کو بھوکا مارنے کی اپنی جارحانہ پالیسی جاری رکھتے ہوئےاس علاقے میں امداد کی ترسیل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
شہاب نیوز نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ صیہونی حکومت نے غزہ میں اقتصادی گھٹن کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور ضرورت کی بنیادی اشیا کے داخلے پر روک لگا رہی ہے، جب کہ اس کے بدلے میں وہ غیر ضروری اور پرتعیش اشیاء کے داخلے پر راضی ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق یہ ایک ایسی پالیسی ہے جسے ماہرین ، غزہ کے باشندوں کو بھوکا مارنے کی دانستہ پالیسی قرار دے رہے ہیں، جس سے معاشی صورتحال متاثر ہو رہی ہے- مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت غزہ میں غیر ضروری سامان کے تیزی سے داخلے کی اجازت دے کر اور بنیادی ضروریات کے داخلے کو روک کر فلسطینیوں کو بھوکا مار رہی ہے