اسلام آباد کی فضا مسلسل خراب ہونے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کی ایئر کوالٹی مسلسل بگڑ رہی ہے اور لاہور کے بعد ملک کے دیگر شہروں کی صورتحال بھی تشویشناک ہوچکی ہے۔
توجہ دلاؤ نوٹس عالیہ کامران، شاہدہ اختر علی، نعیمہ کشور اور عثمان بادینی نے پیش کیا،پارلیمان میں اسلام آبادایئر کوالٹی پرشدید تشویش کا اظہار کیا گیا،اراکین قومی اسمبلی نے سوال اٹھایا ہے کہ حکومت کے ماحولیاتی اقدامات کے نتائج کب سامنے آئیں گے، شہری مسلسل بدتر ہوتی فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے بھی توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اپنی صاف آب و ہوا کی وجہ سے پورے ملک میں منفرد پہچان رکھتا ہے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی اسے صاف رکھنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ شہر کی تیزی سے بڑھتی آبادی ماحولیات کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے کیونکہ پورے ملک سے لوگ اسلام آباد منتقل ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب عثمان بادینی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ماحولیاتی شعبے کے لیے 8بلین ڈالر کی امداد دی گئیلیکن وفاقی وزیر کو یاد نہیں،انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم اسلام آباد کو بھی لاہور جیسی آلودگی کا شکار بنانا چاہتے ہیں؟
جس پرطارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئےکہا کہ لاہور میں بھی ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کیلئے سخت اقدامات کیے ہیں۔