قم المقدسہ میں منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی الصدیقہ الشہیدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین حجت لاسلام و المسلمین سید احمد اقبال رضوی نے رسول اکرم ص کی مشہور حدیث فاطمہ بضعۃ منی کو سرنامہ کلام بناتے ہوئے کہا کہ آیات عظام کی موجودگی میں میرا یہاں گفتگو کرنا انکے سامنے زانوئے ادب تہہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ادارہ بقیۃ اللہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تعمیل امر میں چند جملے آپ کے گوش گذار کرنا چاہوں گا جو کہ میرے لئے باسعادت بھی ہے۔ میں یہاں پاکستان کے حوالے سے جناب سیدہ س کی سیرت طیبہ کے تناظر میں ذمہ داریوں پر کچھ عرائض پیش کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ جناب سیدہ س اسوہ مقاومت ہیں، مقاومت کے بغیر تاریخ بشریت میں کوئی تحریک یا نہضت کامیاب نہیں ہوئی۔ انبیائے کرام سے لے کر تمام ائمہ نے مقاومت کی ہے اور یہ مکتب تشیع کا طرہ امتیاز ہے کہ خارجی اور داخؒی دشمنوں کے سامنے آل محمد ع کے ہر فرد نے مقاومت کی ہے۔
علامہ احمد اقبال نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ اسلام ناب محمدی ص کی جو بھی تعلیمات ہم تک پہنچی ہیں وہ آل محمد ع کی مقاومت کا ہی نتیجہ ہیں۔ اس محاذ مقاومت میں سرفہرست آل محمد کا گھرانہ اور اس کی آغاز گر حضرت سیدہ فاطمہ زہرا س ہیں۔ اور اب ہر مقاومت کا سرہ ان تک ہی پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیدہ اپنی زندگی کے آغاز سے ہی مسلسل مجاہدت اور مقاومت کی حالت میں رہیں۔ آپ س کم سنی میں ہی اپنے بابا کی مقاومت میں شریک کار تھیں۔ اسی طرح ازداوج کے بعد امیرالمومنین ع کی مقاومت میں بھی ان ساتھ نبھایا۔ وفات رسول ص کے بعد سیدہ وہ واحد ہستی تھیں جنہوں نے امیرالمومنین ع کے حق کے لئے جو دراصل اسلام کا حق تھا اپنی پوری زندگی وقف کردی اور اسے قربان کردیا۔ اسی لئے جناب سیدہ کو آج پوری دنیا اسوہ مقاومت کے طور پر پہچانتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیدہ س کی مقاومت صرف ہم جیسے گنہگاروں کے لئے ہی نہیں بلکہ وقت کے امام عج کے لئے بھی مثالی نمونہ ہے۔ اسی لئے امام زمانہ عج سے منسوب قول ہے کہ میرے لئے میری جدہ کی سیرت اسوہ حسنہ ہے۔ ایک لاکھ چودہ ہزار انبیاء کے آرزوؤں کی تکمیل کرنے والے، ائمہ اطہار کی امیدوں کے مرکز، اللہ سبحانہ تعالی کے وعدے کی تکمیل کرنے والے، پوری دنیا پر محمدی نظام نافذ کرنے والے امام اپنے لئے دادی حضرت زہرا س کی سیرت کو نمونہ عمل قرار دے رہے ہیں
علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ آج غزہ پر دو سال سے بمباری کی جارہی ہے، ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، نسل کشی کا عملی مظاہرہ دنیا نے دیکھا۔ لیکن ان سب کے درمیان اگر کسی نے غزہ کے باسیوں کا ساتھ دیا تو وہ جناب سیدہ س کے ماننے والے ہیں۔، وہ جناب زہرا س کے ماننے والے فقہاء اور مراجع عظام اور ہمارے مجاہدین تھے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ فاطمی نسل اور انکے پیروکار پوری دنیا میں دشمن کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ آج ہم اپنے پورے نظریات کے ساتھ وارد میدان ہیں۔
انہوں نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ دنیا آپ کو آپ کے اور آپ کے رہبر کے کردار کے ذریعے دیکھ رہی ہے کہا کہ دنیا سید حسن نصر اللہ اور یمنیوں کے کردار کے ذریعے آل محمد ع کے کردار سے آشنائی حاصل کررہی ہے۔ اور انکے سامنے سر جھکاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ وہ زمانہ چلا گیا جب تشیع ایک گوشہ نشین مذہب ہوا کرتا تھا آج یہ مذہب پوری دنیا میں اپنا پیغام پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم جناب سیدہ کی زندگی کے اہم پہلو انکی مقاومت، سماجیت اور اجتماعیت ہے اس سے آشنائی حاصل کریں۔ سیدہ س نے لوگوں کو ولایت سمجھانے کی کوشش کی اور اسی راہ میں شہادت حاصل کی ہے۔ اور یہ بتلا دیا کہ دین سیاست سے جدا نہیں ہے۔
علامہ رضوی نے کہا کہ ہم جس سرزمین پر موجود ہیں وہ امام خمینی کی سرزمین ہے جہاں سے رہبر معظم اٹھے ہیں، جہاں سے سید حسن نصر اللہ اٹھے ہیں، مقاومت کے قائدین اور مجاہدین یہاں سے اٹھے ہیں، آج سرزمین پاکستان کو جامع شخصیات کی ضرورت ہے، ہمیں مدرسین، مفکرین، مبلغین، ذاکریں، مصنفین، مترجم، محراب میں پیش نماز، امام جمعہ سمیت ہر میدان میں افراد کی ضرورت ہے۔ ہم یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا نہیں سکتے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں الحمداللہ ہم نے شہید عارف حسین الحسینی کے خواب کی تکمیل کرتے ہوئے کہ ہم پورے پاکستان کے حقوق کی بات کریں گے، وہ مرحلہ آچکا ہے۔ آج ہم نے فرقہ واریت کا دائرہ توڑ دیا ہے اور مین اسٹریم کی قیادت کررہے ہیں۔ کل تک جن میں خود اعتمادی نہیں تھی کہ شیعہ پاکستان کی سربراہی نہیں کرسکتے آج وہ بھی اس کا اعتراف کررہے کہ کچھ لوگوں نے شہید قائد کے راستے پر چلنے کی کوشش کی ہے۔ آج ستائیسویں ترمیم کے بعد پاکستان کو جس اندھے کنوئیں میں پھینک دیا گیا ہے اس سے نکلنے کا تنہا راستہ صرف مقاومت ہے۔
علامہ احمد اقبال نے مزید کہا کہ آج ایک شخص کو مطلق عنان بنا کر پاکستان کی عدالت عالیہ کو دفن کردیا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان کو ابراہیم اکارڈ میں ڈالنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے تمام زمینہ ہموار کرلیا گیا یہ ہماری، انقلابیوں، شیعوں اور اہل سنت کی ذمہ داری ہے کہ اس کا راستہ رواکنے کے لئے اپنا کردار کریں۔ مولا امیر المومنین ع نے فرمایا کہ جس قوم کا دشمن گھروں کے دروازے پر لات مار دے وہ قوم ذلیل ہوجاتی ہے دشمن کو اپنے شہر سے باہر روکو۔ اللہ ہمیں اس مقاومت فاطمی کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔