انڈونیشیا کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم “علما تحریک” نے تحریک کے صدر یحیی خلیل استاکوف کی ایک صیہونی امریکی محقق سے ملاقات کے بعد انہیں اپنے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، استاکوف کو استعفے کے لیے تین دن کی مہلت دی گئی ہے اور اگر انہوں نے استعفے سے انکار کیا تو انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ خلیل استاکوف نے گزشتہ جمعرات کو صیہونیت اور جنگ غزہ میں اسرائیلی حکومت کی حمایت کرنے والے امریکی یہودی محقق پیٹر برکووچ سے ملاقات اور گفتگو کی تھی جس کے بعد انڈونیشین عوام آگ بگولہ ہوگئے اور یحیی خلیل استاکوف کے استعفے کا مطالبہ بڑھنے لگا۔
قابل ذکر ہے کہ انڈونیشیا کی علما تحریک ارکان کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم سمجھی جاتی ہے جو مذہبی شعبے کے علاوہ بعض اسکولوں اور ہسپتالوں کا انتظام بھی سنبھالے ہوئے ہے نیز انڈونیشیا میں فلاحی اقدامات بھی انجام دیتی ہے۔