پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ایئر انڈیا کو 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد بڑھتے اخراجات اور طویل سفر سے پریشان ایئر انڈیا نے بھارتی حکومت سے مالی سبسڈی کے علاوہ درخواست کی ہے کہ چین سے بات چیت کرکے سنکیانگ کی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت حاصل کی جائے تاکہ مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق فضائی پابندی کے بعد ایئر انڈیا کو نہ صرف بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے بلکہ کئی طویل روٹس پر سفر کا دورانیہ تقریباً تین گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں تقریباً پانچ سال بعد حال ہی میں بحال ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی فضائی پابندی کے بعد ایئر انڈیا کو ایندھن کی مد میں 29 فیصد اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔
کئی روٹس پر سفر کے دورانیے میں بھی تقریباً تین گھنٹے تک اضافہ ہوگیا ہے۔
پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے صرف ایک بھارتی ایئر لائن (ایئر انڈیا) کو ساڑھے 45 کروڑ ڈالر (40 ارب 27 کروڑ بھارتی روپے) سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔
مالی سال 2024-25 میں ایئرلائن کو مجموعی طور پر تقریباً 44 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا، یہ رقم تقریباً 39 ارب بھارتی روپے بنتی ہے۔
پاکستان کی فضائی پابندی کے سبب ایئر انڈیا کو دہلی سے واشنگٹن روٹ اگست میں معطل کرنا پڑا۔
اسی طرح سان فرانسسکو کے لیے ممبئی اور بنگلور سے براہِ راست پروازوں کا دورانیہ بھی تین گھنٹے بڑھ گیا، جس کے باعث مسافر غیر ملکی ایئرلائنز کو ترجیح دے رہے ہیں۔