بنگلہ دیش کی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کے کیس میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔
شیخ حسینہ کے خلاف کیس کا فیصلہ 450صفحات پرمشتمل ہے، سابق وزیراعظم شیخ حسینہ پرانسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ ہے، استغاثہ نے شیخ حسینہ کو سزائےموت دینےکی درخواست کی ہے۔
جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی نے 3 رکنی ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف دائر مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا۔
اس فیصلے کے موقع پر گزشتہ سال حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مارے جانے والے افراد کے لواحقین بھی عدالت میں موجود ہیں، فیصلے کے بعد کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈھاکہ میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کے علاوہ ریپڈ ایکشن بٹالین اور بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق گزشتہ سال موسم گرما میں مظاہروں کے دوران 1400افراد ہلاک ہوئے تھے، سابق وزیرِاعظم پر الزام ہے کہ وہ سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکتوں کی ماسٹر مائنڈ ہیں، شیخ حسینہ واجد اور ان کی جماعت عوامی لیگ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
دوسری طرف بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم حسینہ واجد نے کہا ہے کہ عدالت جو مرضی فیصلہ کرے مجھے پرواہ نہیں ہے،مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ہیں۔
بھارت میں پناہ لینے والی بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے زندگی دی ہے اور وہی لے گا، میں بنگلہ دیشی عوام کے لیے کام جاری رکھوں گی۔
حسینہ واجد نے بھارت سے بیان جاری کیا کہ والدین اور بہن بھائیوں کو کھو چکی ہوں، میرا گھر بھی جلا دیا گیا، پارٹی کارکن پریشان نہ ہوں،یہ وقت کی بات ہے، میں جانتی ہوں آپ تکلیف میں ہیں مگر ہم سب کچھ یاد رکھیں گے اور حساب ہوگا۔
دوسری طرف 78 سالہ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے آج ملک بھر میں مکمل پہیہ جام ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جس کی وجہ سے ڈھاکہ کی گلیاں اور سڑکیں خالی نظر آ رہی ہیں۔
اس سے پہلے حسینہ واجد کے مشیر اور صاحبزادے سجیب واجد نے امریکا میں بیٹھ کر دھمکی دی تھی کہ شیخ حسینہ واجد کے خلاف فیصلے سے ملک میں تشدد کی لہر ابھرے گی۔