منتقلی میں رکاوٹیں، 900 مریض زندگی سے کی جنگ ہار گئے

صحت کی عالمی تنظیم نے  ڈبلو ایچ او نے بتایا ہے کہ غزہ میں اس وقت 16 ہزار 500 ایسے مریض ہیں جنہیں علاج کے لئے باہر بھیجنا ضروری ہے لیکن ابھی تک انہیں یہاں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ملی ہے۔

صحت کی عالمی تنظم کا کہنا ہے کہ علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت کے منتظر ساڑھے سولہ ہزار فلسطینی مریضوں میں 4 ہزار بچے ہیں جنہیں فوری طور پر باہر لے جانے کی ضرورت ہے۔

صحت کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان مریضوں کو غزہ سے باہر منتقل کرنے کی اجازت میں تاخیر کی وجہ سے 900 مریض شہید ہوچکے ہیں جبکہ  بہت سے مریضوں کی حالت خراب ہوگئی ہے اور مزید تاخیر انہیں بھی موت کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔

 صحت کی عالمی تنظیم ڈبلو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈھا نوم نے تاکید کی ہے کہ انسانی اور طبی امداد کے لئے غزہ  کے سبھی راستے کھول دیئے جائيں۔

انھوں نے کہا ہے کہ غزہ کے راستوں کو بند رکھنے اور مریضوں کو یہاں سے باہر لیجانے کی اجازت نہ دینے کا مطلب  صحت کے نظام کو ختم کردینا اور طبی لحاظ سے انسانی بحران پیدا کرنا ہے۔

 اس رپورٹ کے مطابق غزہ میں طبی وسائل اور  ضروری دواؤں کے فقدان نیز ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے  آدھے اسپتالوں کی طبی خدمات کی  سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔

Scroll to Top