سینیٹ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں ترمیم نئی ترمیم کے ساتھ پیش کردی،اپوزیشن نے ایوان میں ڈیسک بجا کر احتجاج کیا۔
چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر کہاکہ آئین کے تحت نئی 4 شقوں اور ترمیم شدہ شقوں کی منظوری لیں گے۔
وزیر قانون اعظم نذیرتارڑنے اس موقع پر کہاکہ آئین کےتحت پارٹی پالیسی سے انحراف کی صورت میں کوئی رکن خودبخود نااہل نہیں ہوتا۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج دوپہر کو طلب کیا گیا ہے جس میں کابینہ آئینی ترامیم کی روشنی میں قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دے گی۔
ستائیسویں آئینی ترمیم کل قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی، اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
ستائیسویں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس درکار 224 سے زیادہ 234 ارکان موجود تھے تاہم جے یو آئی (ف) نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
قومی اسمبلی میں 27 ویں ترمیم میں 8 نئی ترامیم شامل کی گئی ہیں، حکومت نے تجاویز پر آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں تبدیلی کردی، کلاز 2 کے تحت سنگین غداری کا عمل کسی بھی عدالت کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جاسکے گا، آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت کے لفظ کا اضافہ کیا گیاہے۔
موجودہ چیف جسٹس کو عہدے کی مدت پوری ہونے تک چیف جسٹس پاکستان کہا جائے گا، اس کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت میں سے سینئر ترین جج چیف جسٹس پاکستان ہو گا۔