اقوام متحدہ میں فلسطینی وفد کی سفارت کار اور قانونی مشیر لورین سایج نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے خلاف جرائم کے مرتکب جنگی مجرموں کو سزا ملنی چاہیے، جب کہ پراسیکیوٹرز، ججوں اور اقوام متحدہ کے عملے کو، جو انصاف کی تلاش میں ہیں، تحفظ اور مدد فراہم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ جنگی مجرموں کا احترام یا ان کی قدردانی نہیں ہونی چاہئے اور بدترین جرائم انجام دینے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ لورین سایج نے عالمی فوجداری عدالت کے توسط سے صیہونی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور غاصب حکومت کے سابق وزیر جنگ یوآف گالانت کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کو اسرائیلی استثنیٰ کے خاتمے کے لئے آغاز قرار دیا اور کہا کہ عدالت نے قانون نافذ کردیا ہے اور جارحین کو جواب دہ بنانےکےلئے اپنا فرض پورا کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 77 برس کے دوران کوئی بھی صیہونی عہدیدار فلسطینی عوام پر مظالم ڈھانے کے باوجود اب تک جواب دہ قرار نہيں پایا ہے- اگر ہم انصاف کی طلب کے لئے آخری راستے کےطور پر عالمی فوجداری عدالت کی طرف رجوع نہ کریں تو پھر کہاں جائيں؟
سایج نے عالمی برادری اور عالمی فوجداری عدالت کے رکن ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی معاشرے کی حمایت کریں اور ظلم و ناانصافی اور مظالم کی بھینٹ چڑھنے والوں کی حفاظت اور عدالت تک ان کی دسترسی کو یقینی بنائيں۔ انہوں نے اس سلسلے میں کہا کہ فلسطینی حکومت تمام متاثرین کی خاطر اور ان کو عالمی انصاف دلانے کے لئے عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت آئی سی سی اکیس نومبر دوہزار چوبیس کو صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر جنگ گالانت کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کےالزامات کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔