غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے موضوع پر ترکیہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقائی عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ ان ممالک میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیاء سمیت متعدد عرب و مسلم ممالک موجود تھے۔ اس موقع پر ترکیہ کے وزیر خارجہ “حكان فیدان” نے کہا کہ فلسطینیوں کو خود، فلسطین کی باگ ڈور سنبھالنی چاہئے اور انہیں اپنی سلامتی خود یقینی بنانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ، قیام امن کے لئے ہر ضروری قدم اٹھائے گا لیکن اس کے لئے سب سے پہلے ایک قابل قبول فریم ورک بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند کرے اور امدادی سامان کی فلسطینیوں تک رسائی کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عمل کرے۔
غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ میں کچھ مسائل درپیش ہیں، جن کی اسرائیل، مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے 20 نکاتی منصوبے کی ایک شق کے مطابق، ایک خالصاََ فلسطینی حکومت کے قیام تک، اس پٹی میں امن برقرار رکھنے کے لئے بین الاقوامی فوجی دستے تعینات کئے جائیں گے۔ اسی شق کو مدنظر رکھتے ہوئے تُرک وزیر خارجہ نے کہا کہ اس اجلاس میں شریک ممالک، بین الاقوامی استحکامی قوت کی تعریف اور پیرامیٹرز کی بنیاد پر غزہ میں فوج بھیجنے کا فیصلہ کریں گے۔ تاہم دوسری جانب صیہونی وزیراعظم “بنجمن نیتن یاہو” نے کہا کہ وہ غزہ کی پٹی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کسی غیر ملکی فوج کو تعینات ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔