آجکل مشرق وسطٰیٰ سے دور افریقی ملک سوڈان میں جنگی جرائم کی نئی تاریخ رقم ہورہی ہے۔ اہریل 2023 سے سرکاری فورسز اور پرائیویٹ ملیشیا کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک 40 ہزار افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ 12 میلین سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
ڈارفور کا علاقہ ثاڈ، لیبیا، اور جنوبی سوڈان کے درمیان ایک اہم اور اسٹریٹجک علاقہ ہے جو اپنے سونے کے ذخائر کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حالیہ جنگ کی ایک وجہ سونے کی کانوں پر قبضہ کرنا بھی ہے۔
ایک سال سے زیادہ عرصہ میلیشا کے محاصرے میں گھرا ڈارفوار کا شہر اور حکومتی فورسز کا مرکز الفاشر بھی چند دنوں پہلے سقوط کرچکا ہے جہاں سکوت کے بعد مخالفین نے کچھ اس طرح قتل عام کیا ہے کہ اس کے نشانات سیٹیلائیٹ سے بھی بخوبی واضح ہیں۔
الفاشر کے باسی جہاں گذشتہ 18 مہینوں سے محاصرے کی وجہ سے زندگی گذارنے کی بنیادی چیزوں سے بھی محروم تھے لیکن زندگی کی ایک امید باقی تھی جو محاصرے ختم ہونے وار حکومتی فورسز کی پسپائی کے بعد باقی نہیں رہی۔
شہر میں ہر طرف لاشوں کے انبار نظر آرہے ہیں اور عام شہریوں پر بھی رحم نہیں کھایا جارہا۔
بتایا جارہا ہے کہ الفاشر جیسے اسٹریٹجک شہر کے سقوط کرجانے کے بعد صرف تین دنوں میں شہر میں دو ہزار افراد کو قتل کردیا گیا جبکہ سوڈان میں ڈاکٹرز نیٹ ورک نامی تنظیم نے ہلاکتوں کی تعداد 1500 بتائی ہے۔
اس تنظیم کے مطابق آر ایس ایف ریپیڈ فورسز نے نہ صرف لوگوں کا قتل عام کیا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں بھی کررہی ہے حتیٰ اسپتالوں پر بھی حملے جاری ہیں۔
الفاشر سے گذشتہ تین دنوں کے دوران 26 ہزار سے زیادہ شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر فرار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں لیکن اب بھی 1 لاکھ 77 ہزار افراد اہاں پھنسے ہوئی ہیں جنکی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
الفاشر جو حکومتی فورسز کا مظبوط مرکز سمجھا جاتا تھا لیکن اب اسکے سقوط کے بعد سوڈان عملی طور پر مشرق اور مغرب دو حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ مشرق حکومتی فورسز کے کنٹرول میں جبکہ مغرب آر ایس ایف فورسز کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
آر ایس ایف نے ڈارفور میں اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے حالنکہ ڈارفور کے مشروی، مرکزی اور شمالی علاقوں میں اب بھی حکومتی فورسز موجود ہیں۔
الفاشر کے بعد آر ایس ایف فورسز اب الابیض کی جانب پیشقدمی کررہی ہیں جو صوبہ کردفان کا دارالحکومت ہے لیکن اسوقت حکومتی فورسز کے قبضے میں ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق الفاشر پر قبضہ کرنے کے بعد آر ایس ایف فورسز گھر گھر تلاشی لے کر اپنے مخالفین کو موت کے گھات اتار رہی ہیں۔ شہر میں موجود سعودی اسپتال میں ہونے والے قتل عام میں آر ایس ایف فورسز نے 500 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ جبکہ خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کی بھی رپورٹیں موصول ہورہی ہیں۔