صحافیوں نے غزہ کے راستے کھولنے کی اپیل کردی

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز تنظیم نے عالمی نامہ نگاروں پر غزہ پٹی کے دروازے کھولے جانے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ صیہونی حکومت کی دو سالہ وحشیانہ جارحیت اور اس کے بعد کی صورتحال کا صحیح طریقے سے جائزہ لیا جاسکے۔

اس تنظیم نے “غیرملکی صحافتی انجمن” کی قانونی کارروائی میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غزہ کی صورتحال کی رپورٹنگ کے لیے سرحدیں کھولے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز تنظیم نے زور دیکر کہا ہے کہ بین الاقوامی صحافیوں کا راستہ بند کرکے فلسطینی نامہ نگاروں کو الگ تھلگ کرنے اور انہیں اکیلا چھوڑنے کی سازش کی جا رہی ہے تا کہ غاصب اسرائیلی حکومت اپنے گمراہ کن پروپیگینڈوں کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے قابو میں کرسکے۔

قابل ذکر ہے کہ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز تنظیم نے ٹھوس قانونی دستاویزات پیش کرکے صیہونی حکومت کے ہاتھوں آزادی اظہار کی خلاف ورزی کو چیلنج کیا ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز تنظیم کے کوآرڈینیشن شعبے کے ڈائریکٹر آنتوان برنارڈ نے اسی سلسلے میں کہا ہے کہ صیہونی کابینہ نے گزشتہ دو سال سے غیرملکی صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے نہیں دیا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ دو سال کے دوران غزہ میں 210 فلسطینی صحافیوں کی ٹارگیٹ کلنگ کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ غاصب افواج اور کابینہ غزہ میں اپنے جرائم بالخصوص منظم نسل کشی کی پردہ پوشی کرنا چاہتی ہے۔

Scroll to Top