سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان آج دوحہ میں مذاکرات ہوں گے، طالبان وفد کی قیادت وزیر دفاع ملا یعقوب جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت سینئر سیکیورٹی حکام کریں گے، طالبان حکومت کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی جھڑپوں کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان آج دوحہ میں مذاکرات ہوں گے۔
افغان حکومت کے وفد کی قیادت وزیر دفاع ملا یعقوب کریں گے جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت سینئر سیکیورٹی حکام کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق سفر کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد طالبان حکومت نے اپنے وفدکو تبدیل کر دیا۔
طالبان حکومت کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے 15 اکتوبر کو افغان طالبان کی سیز فائر کی درخواست پر اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا فیصلہ کیاتھا۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ےجا کہ پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دونوں اطراف بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔
دریں اثنا، ترجمان طالبان حکومت ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہا کہ افغان فورسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنگ بندی کی اُس وقت تک پاسداری کریں، جب تک کوئی جارحیت نہیں کی جاتی۔