مودی حکومت بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں فوجی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی لائی ہے۔ ضلع کپواڑہ میں کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فوجیوں کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کنٹرول لائن پر بھاری توپ خانہ منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ علاقے کی ڈرون کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والی 155 ایم ایم آرٹلری گنیں کنٹرول لائن کے قریب اگلی پوسٹوں کی طرف منتقل کی جا رہی ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھاری توپوں کو ٹنگدھر، ترہگام اور کیرن جیسے حساس سیکٹروں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔
فوجی کیمپوں اور بنکروں کی مرمت وغیرہ کا کام بھی جنگی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے۔ رہائشیوں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن کے ساتھ چراگاہوں اور مشہور سیاحتی مقامات کو سیل کر دیا ہے۔
لوگوں نے وادی میں رات کے وقت ریل گاڑیوں کی آمدورفت میں تیزی کی اطلاع دی ہے اور اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ان کے ذریعے فوجی سازوسامان کنٹرول لائن کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا بھارتی فورسز نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری سے ملحقہ دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
بھارتی فوجیوں، پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے حریت رہنمائوں اور آزادی کے حامی افراد کو بڑے پیمانے پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔