پاکستان سے غیر قانونی افغان باشندوں کو نکالنے کا عمل تیز ہوگیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب سے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے انخلاء کا سلسلہ تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ سپیشل برانچ، پولیس اور دیگر اداروں نے ازسر نوء افغان باشندوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کر دیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کے سامنے افغان باشندوں کا سراغ لگانے میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جب کارروائی کی جائے تو افغان خواتین اور بچے مزاحمت کرتے ہیں، اگر اہلکاروں خواتین کیخلاف کوئی ایکشن لیں تو مرد حضرات اسے غیرت کا معاملہ بنا لیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغان خانہ بدوشوں کی بار بار ہجرت اور علاقہ بدلنے کے عمل کو بھی چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اہلکاروں نے بتایا کہ جن افغانیوں کیخلاف کارروائی کی جاتی ہے، وہ شہر یا علاقہ بدل لیتے ہیں۔ جس سے ان کو ڈی پورٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام کو دی گئی بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ریکارڈ کی متعدد فہرستیں مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ افغان باشندوں کو کرایہ پر گھر دینے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب افغان خواتین اور بچوں کی مزاحمت روکنے کیلئے بھی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں 12 ہزار سے زائد افغان بچوں کا ریکارڈ اکٹھا کر لیا گیا ہے، افغان بچوں کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کرکے انخلاء کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Scroll to Top