مرید کے میں تحریک لبیک کے خلاف آپریشن متعدد ہلاکتیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے مرید کے میں تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے کی جانے والی کارروائی پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہوگئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار بیٹھے۔

تفصیلات کے مطابق مرید کے میں کئی دنوں سے جاری تحریک لبیک پاکستان کے مظاہروں اور دھرنوں کو پولیس کی جانب سے آپریشن کرکے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ، لاٹھی چارج اور  پٹرول بموں سے حملے کئے۔

پولیس نے اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں معاملہ پرتشدد ہوگیا۔ دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔

اب تک مرنے والوں کی صحیح تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن جائے وقوعہ پر موجود ہمارے نمائندوں کے مطابق یہاں ہر طرف آنسو گیس اور گولیوں کے خالی شیل اور کارتوس موجود ہیں جبکہ فضا میں کئی گھنٹے گذر جانے کے باوجود اب بھی آنسو گیس کی بو موجود ہے۔

مطاہرین نے متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگا جبکہ مظاہرے کا مرکزی ٹرالر بھی جل کر راکھ ہوگیا۔

تحریک لبیک کے زرائع کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کو بھی تین گولیاں لگی ہیں اور اس وقت انکی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق 50 کے لگ بھگ افراد زخمی ہیں جنہیں معمولی اور شدید نوعیت کے زخم آئے ہیں۔

اس سے پہلے آپریشن کے دوران تحریک لبیک کے ترجمان عرفان رضا قادری کا کہنا ہے کہ ’غزہ مارچ‘ میں شامل افراد فجر کی نماز کی ادائیگی کے لیے تیاری کر رہے تھے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر اُن پر فائرنگ شروع کر دی۔

انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس سے قطع نظر ہوا کہ مارچ کے شرکا پرامن تھے اور قیادت کی طرف سے مارچ کے شرکا کو اپنا سفر جاری رکھنے کی ہدایات بھی نہیں دی گئی تھی۔

ٹی ایل پی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ اس آپریشن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکار بھی مریدکے میں تعینات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جس کنٹینر پر پارٹی قیادت سوار ہے اس پر براہ راست شیلنگ کی جا رہی ہے۔

آج صبح مرید کے میں آپریشن کے بعد ملک کے معتدد شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے روڈ بلاک کردیئے اور متعدد گاڑیوں اور ٹائروں کو آگ لگا دی۔ جبکہ لاہور میں وکلاء برادری نے بھی پرتشدد مظاہرے کئے۔

واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا فلسطین کے حق میں احتجاجی مارچ کا قافلہ 10 اکتوبر جمعہ کے روز لاہور سے روانہ ہوا تھا اور شرکا کا اسلام آباد پہنچ کر امریکن ایمبیسی کے باہر احتجاج کا پلان تھا، تاہم سنیچرکی شام یہ لاہور سے گوجرانوالہ کے رستے میں مریدکے کے مقام پر رک گئے جوضلع شیخوپورہ کی حدود میں شامل ہے۔

اتوار کے روز بھی ٹی ایل پی کا قافلہ دن بھر مریدکے میں ہی رہا اور آگے نہ بڑھا، اس بارے ٹی ایل پی کی قیادت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ حکومت ہم سے مذاکرات کرنا چاہ رہی ہے اس وجہ سے مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا اعلان ہوئے بغیر قافلہ آگے نہیں بڑھے گا۔

تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی نے احتجاجی مارچ کے قافلے میں شامل کنٹینر (سٹیج) پر اتوار کی رات آٹھ بجے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے ہم سے کل (سنیچر کے روز) مذاکرات کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن انھوں نے ایک شرط رکھی تھی کہ آپ مذاکرات سے پہلے اپنا مارچ روک دیں، ہم 24 گھنٹوں سے یہاں مریدکے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مارچ رکا ہوا ہے لیکن حکومت کی طرف سے کسی نے مذاکرات کا عمل شروع نہیں کیا اور نہ ہی ہم سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top