غزہ کے باسیوں کی تباہ شدہ گھروں کو واپسی شروع

غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد فلسطینی شہری اپنے تباہ شدہ گھروں کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

غیر ملکی زرائع ابلاغ کے مطابق جبری طور پر بے گھر کیے گئے فلسطینی اپنی اشیا سے لدے ٹرکوں پر سوار ہو کر مصری اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے وسطی غزہ کی پٹی میں وادی غزہ کے قریب ساحلی سڑک کے ساتھ ساتھ غزہ شہر کی جانب جا رہے ہیں۔

غزہ شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فلسطینی صرف ملبہ دیکھنے واپس لوٹے ہیں۔

2 سالہ جنگ کے بعد غزہ شہر میں ملبہ ہٹانے کے لیے بلڈوزروں نے کام شروع کر دیا ہے، جب کہ دسیوں ہزار جبری طور پر بے گھر فلسطینی شمالی غزہ کے تباہ شدہ شہروں اور قصبوں کی طرف واپس جا رہے ہیں۔

مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی کانفرنس کی تیاری جاری ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت متوقع ہے، جب کہ برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر بھی شرکت کریں گے۔

اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو رہائی سے قبل 2 جیلوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جو حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے، اس معاہدے کے تحت غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے سمٹ سے قبل ممکن بنائی جائے گی۔

Scroll to Top