حزب اللہ کے رہنما سید ابراہیم موسوی نے کہا ہے کہ مقاومت کا پرچم مکمل فتح تک بلند رہے گا، کیونکہ یہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ وجود کا مسئلہ ہے۔
حزب اللہ لبنان کے رکن پارلیمان سید ابراہیم موسوی نے کہا ہے کہ فلسطین کی راہ میں شہید ہونے والے مجاہدین نے امتِ مسلمہ کو عزت و وقار واپس دلایا ہے، اور آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ انہی کے صبر، استقامت اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں کا ثمر ہے۔
حزب اللہ کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موسوی نے کہا کہ ہم پرچمِ مقاومت کو مکمل فتح تک بلند رکھیں گے، کیونکہ یہ ایک وجودی مسئلہ ہے جو صرف سرحدوں تک محدود نہیں۔
انہوں نے امام موسیٰ الصدر اور امام خمینیؒ کے اس قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل شرِ مطلق اور سرطانی ناسور ہے، اور اس دوٹوک تعبیر سے آگے کسی نرمی یا تاویل کی گنجائش نہیں۔
سید ابراہیم موسوی نے کہا کہ اسلامی مقاومت نے اہلِ بیتؑ کے راستے کی حقیقی پیروی کا عملی نمونہ پیش کیا ہے اور فلسطین کو اپنا اولین قبلہ قرار دیا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اسی راستے کے فرزند اور شہداء کے ہمسفر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ غزہ میں ہونے والے مظالم کے مقابلے میں خاموش رہے یا لاتعلق بنے رہے، وہ بھی اس جرم میں شریک ہیں۔ درست اور شایستہ موقف وہی ہے جو اس مقاومت کے ساتھ ہو جو امت کی خاطر اپنا خون نچھاور کر رہی ہے۔
موسوی نے کہا کہ امت پر ذلت مسلط کرنے کی تمام کوششیں اقوام کے عزم اور شہداء کے خون کے سامنے ناکام ہو جائیں گی۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ حزب اللہ اپنے موقف پر قائم رہے گی، شہداء کے پاک خون کو مایوس نہیں کرے گی، اور پرچمِ مقاومت کو کامل فتح تک بلند رکھے گی۔