پاک افغان سرحد پر افغانستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج کی جانب سے جواب دیئے جانے کے بعد اس وقت شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
پاکستانی زرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی سیکورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد افغان پوسٹوں اور دہشتگرد تنظیموں کو کافی نقصان پہنچایا گیا ہے اور پاکستانی فوج مبینہ طور پر توپ خانے، ٹینکوں اور ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔
پاکستانی سرکاری ٹی وی نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاک فوج داعش اور تکفیری خارجی دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی وسائل اور ڈرونز کا بھی استعمال کررہی ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے پاک-افغان سرحد پر انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال جبکہ بلوچستان کے علاقے بارام چاہ پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے بعد صورتحال خراب ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے شدید جھڑپوں کی صورت اختیار کرلی۔
پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ کا مقصد خوارج کے گروپوں کو سرحد پار کروانا بھی تھا، افغان فورسز کے اس اقدام پر پاک فوج کی چوکس اور مستعد پوسٹوں کی جانب سے تیزی کے ساتھ بھرپور اور شدید جواب دیا گیا۔