غزہ جنگ بندی کے بعد صہیونی فورسز کہاں رہیں گی؟

غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے مذاکرات کے بعد جنگ بندی معاہدے کے تحت، اور اس کے پہلے مرحلے میں، اسرائیل ۲۴ گھنٹوں کے اندر اندر اپنی فوج کو اُس حد تک واپس لے جائے گا جسے “زرد لائن” کہا جاتا ہے، لیکن پھر بھی غزہ کی پٹی کے ۵۸ فیصد حصے پر اس کا کنٹرول برقرار رہے گا، جن میں اہم علاقے شامل ہیں جیسے بیت حنون، شہر غزہ کے کچھ حصے، خان یونس اور تقریباً پورا شہر رفح۔

واضح رہے کہ غاصب صہیونی ریاست اور حماس کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں اب بھی اختلافات باقی ہیں اور اسرائیل نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ تمام قیدیوں کو رہا نہیں کرے گا، خاص طور پر وہ افراد جو ۷ اکتوبر کے حملے میں ملوث تھے۔

ادھر جنگ بندی کے بعد امدادی ساز و سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے معاملے پر بھی بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ خاص ظور پر وہ علاقے جہاں پر صہیونی فورسز کا کنٹرول برقرار رہے گا۔

اسی کے ساتھ ساتھ جنگ بندی اور سیز فائر جیسے معاملات میں بھی غاصب صہیونی حکومت کی سابقہ بد عہدیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

Scroll to Top