صہیونی فورسز نے آزادی بیڑے کے تمام جہاز تباہ کر دیے

اسلام247: غزہ کے محصور عوام کے لیے انسانی امداد لے جانے والے آزادی بیڑے کے تمام جہاز صہیونی فوجیوں کے حملوں کی زد میں آگئے

الجزیرہ کے مطابق، آزادی بیڑے کے کارکنان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی پانیوں میں کیے گئے ہیں، جو صہیونی ریاست کی واضح بحری قزاقی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی افواج نے بغیر کسی پیشگی وارننگ کے جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے امدادی مشن بری طرح متاثر ہوا۔
بیڑے کے کارکنوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس غیرقانونی جارحیت کا نوٹس لے اور غزہ کے مظلوم عوام تک امداد پہنچانے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرے۔

 ترانوے (93) کارکنوں اور صحافیوں والا جہاز “الضمیر” بھی نشانہ بنا

ذرائع کے مطابق، اس سے قبل ایک صہیونی جنگی ہیلی کاپٹر نے “الضمیر” نامی جہاز کو نشانہ بنایا، جس میں 93 کارکن، ڈاکٹر اور صحافی سوار تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق، حملے کے وقت جہاز بین الاقوامی سمندری حدود میں موجود تھا اور اس پر واضح طور پر ریڈ کراس کے امدادی نشانات موجود تھے۔

آزادی بیڑے کے منتظمین نے کہا کہ یہ کارروائی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بحری قزاقی کے زمرے میں آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف غزہ کے بھوکے اور زخمی عوام تک خوراک، دوائیں اور امدادی سامان پہنچانا تھا، مگر اسرائیلی فورسز نے ایک بار پھر ظلم کی انتہا کر دی۔

 عالمی برادری کی خاموشی پر سوالات

آزادی بیڑے کے کارکنوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو یہ غزہ کے محصور عوام پر اجتماعی سزا کے مترادف ہوگی۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں کیے گئے اسرائیلی حملوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔

ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل کسی عالمی قانون کا احترام نہیں کرتا، اور اس کی کارروائیاں مکمل طور پر ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔

Scroll to Top