ایرانی صدر: اسلامی ممالک کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے

اسلام247 : صدرِ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیاں نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کا اتحاد وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، اگر امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند متحد ہو جائے تو صہیونی حکومت کو نہ فلسطین پر مظالم ڈھانے کی جرات ہوگی اور نہ ہی دیگر ممالک پر حملے کرنے کی۔

صدرِ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیاں نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کا اتحاد وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، اگر امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند متحد ہو جائے تو صہیونی حکومت کو نہ فلسطین پر مظالم ڈھانے کی جرات ہوگی اور نہ ہی دیگر ممالک پر حملے کرنے کی

انہوں نے یہ بات انڈونیشیا کے نئے سفیر رولیانشاه سوامیرات سے اسنادِ سفارت وصول کرنے کی تقریب میں کہی۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیاں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا محور اسلامی ممالک کے ساتھ ہمہ جہت تعاون اور تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تمام مسلم ممالک بھائی ہیں اور امت کو دشمنانِ اسلام کے خلاف اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ایک جسم کی مانند کھڑا ہونا چاہیے۔

 اسلامی ممالک میں باہمی تعاون پر زور

صدر ایران نے زور دیا کہ اسلامی ممالک کو علمی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، سماجی اور دفاعی شعبوں میں باہمی روابط کو فروغ دینا چاہیے تاکہ امت متحد ہو کر صہیونی مظالم کا مؤثر جواب دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران، انڈونیشیا سمیت تمام اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں یہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیاں نے انڈونیشیا کی حکومت کا بین الاقوامی فورمز پر ایران کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سفیروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ہر شعبے میں تعلقات مضبوط کریں۔

انہوں نے انڈونیشیا کے صدر کو دورۂ ایران کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ “یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو ایک نئے دور میں داخل کرے گا۔”

 انڈونیشی سفیر کا ایران سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم

تقریب میں انڈونیشیا کے نئے سفیر رولیانشاه سوامیرات نے اپنی تعیناتی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنی مدتِ سفارت کے دوران دونوں حکومتوں، نجی شعبے اور عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے۔

سفیـر نے فلسطین کے مسئلے پر اپنے ملک کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ “انڈونیشیا، فلسطینی عوام کی حمایت کو نہایت اہم سمجھتا ہے اور اس راہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنا ایران کا مسلمہ حق ہے۔

Scroll to Top