اسلام247: امریکا کی دفاعی کمپنی ریتیھون نے اپنے معاہدے میں ترمیم کے بعد پاکستان کو جدید درمیانی فاصلے کے فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل (AMRAAM) فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترمیم کے تحت پاکستان کو اُن ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو یہ میزائل خریدیں گے۔
30 ستمبر کو امریکی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ریتیھون کو پہلے سے دیے گئے معاہدے میں 4 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی ’فِرم فکسڈ پرائس‘ ترمیم کی منظوری دی گئی ہے، جو C8 اور D3 ماڈلز کے جدید اے ایم ریم میزائلوں کی پیداوار سے متعلق ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس ترمیم کے بعد معاہدے کی مجموعی مالیت 2.47 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.5 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حماس کا جنگ بندی مذاکرات میں واضح مؤقف
بیان کے مطابق، کام امریکی ریاست ایریزونا کے شہر ٹُکسن میں کیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ 30 مئی 2030 تک مکمل ہو جائے گا۔
یہ معاہدہ برطانیہ، پولینڈ، پاکستان، جرمنی، فن لینڈ، آسٹریلیا، رومانیہ، قطر، عمان، جنوبی کوریا، یونان، سوئٹزرلینڈ، پرتگال، سنگاپور، نیدرلینڈز، چیک ری پبلک، جاپان، سلوواکیا، ڈنمارک، کینیڈا، بیلجیئم، بحرین، سعودی عرب، اٹلی، ناروے، اسپین، کویت، سویڈن، تائیوان، لیتھوانیا، اسرائیل، بلغاریہ، ہنگری اور ترکیہ کو فروخت سے متعلق ہے۔
واضح رہے کہ 7 مئی کے معاہدے میں پاکستان خریدار ممالک کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔
یہ امریکی میزائل پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ایف-16 طیاروں پر نصب کیے جاتے ہیں۔
فروری 2019 میں کیے گئے پاک فضائیہ کے آپریشن ’سوِفٹ ریٹارٹ‘ کے دوران یہی میزائل استعمال کیے گئے تھے جب بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے گئے جو کشمیر کے اوپر پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
پاکستان نے جنوری 2007 میں 700 اے ایم ریم میزائل خریدے تھے، جو اُس وقت اس ہتھیار کے لیے دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی خریداری تھی۔
امریکی دفاعی کمپنی کی جانب سے میزائلوں کی فروخت کا یہ فیصلہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں نمایاں گرم جوشی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ مثبت اشارے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے، اب ایک مضبوط اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
داعش خراسان کے ایک اہم رکن کی گرفتاری میں پاکستان کے تعاون کا امریکی اعتراف ہو یا جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کو روکنے کے دعوے، پاکستان کا نام حالیہ برسوں میں امریکی صدر کے روزمرہ بیانات میں غیر معمولی طور پر زیادہ بار آیا ہے۔
ٹیرف مذاکرات میں بڑی رعایت حاصل کرنے، تیل و معدنی وسائل میں امریکی سرمایہ کاری کی بڑھتی دلچسپی اور ڈیجیٹل اثاثوں و کرپٹو کرنسی کے لیے کھلے رویے کا عندیہ دینے کے بعد، پاکستان خطے میں ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔