اسلام247: حماس نے طوفان الاقصی کی دوسری سالگرہ کے موقع پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ سالگرہ اس وقت منائی جا رہی ہے جب جنگ ابھی بھی جاری ہے اور اس کے سیاسی و اقتصادی اثرات خطے پر چھائے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا او آئی سی سے مطالبہ: غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے
بیان میں کہا گیا ہے کہ طوفان الاقصی نے خطے میں سیاسی اور عسکری تبدیلیوں میں ایک اہم سنگ میل قائم کیا۔ دو سال گزر چکے ہیں لیکن صہیونی دشمن نے ابھی بھی فلسطینی عوام پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ عرب ممالک اور دنیا پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
دو سال کے دوران درد اور ظلم کی بڑی داستانیں رقم ہوئیں، لیکن مزاحمت کی نگاہیں اب بھی القدس اور مسجد الاقصی کی آزادی کی طرف مرکوز ہیں۔ اس دوران فلسطینی عوام نے استقامت دکھائی اور قابضین کے خلاف مزاحمت کی صفوں میں شامل رہے۔
حماس نے مزید کہا کہ ان دو سالوں کے بعد بھی ہماری قوم، جو اپنی زمین میں جڑیں رکھتی ہے، جبری نقل مکانی اور دیگر سازشوں کے خلاف اپنے جائز حقوق پر قائم ہے۔ ہم نے آزادی کے راستے میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔