غزہ میں تباہی کی شرح 90 فیصد: صہیونی حملوں نے زندگی کا ہر نشان مٹا دیا

اسلام247: غزہ کی حکومت کے اطلاعاتی دفتر نے اعلان کیا ہے کہ صہیونی ریاست کے حملوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں تباہی کی شرح 90 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 38 اسپتال مکمل طور پر تباہ یا بند ہو چکے ہیں، جبکہ صہیونی فوج نے غزہ کے 80 فیصد رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ عوام پر دو لاکھ ٹن سے زائد بارودی مواد گرا دیا گیا ہے اور 95 فیصد اسکول مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ میں حماس کے جدید جنگجو: برطانوی اخبار کا اعتراف جو منظرِ جنگ بدل رہا ہے

گذشتہ دو برسوں کے دوران غزہ میں شہداء کی تعداد 76 ہزار 639، لاپتہ افراد 9 ہزار 500 اور زخمیوں کی تعداد 169 ہزار 583 تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران 4 ہزار 800 افراد کے اعضا بھی کاٹے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2 ہزار 700 فلسطینی خاندان مکمل طور پر شہری ریکارڈ سے مٹ گئے ہیں، جبکہ غذائی قلت اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث 12 ہزار اسقاط حمل کے واقعات بھی درج کیے گئے ہیں۔ غزہ میں بھوک اور قحط کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 460 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ رپورٹ غزہ میں جاری انسانی بحران کی سنگینی اور صہیونی حملوں کے تباہ کن اثرات کی واضح عکاسی کرتی ہے، جس سے لاکھوں فلسطینی متاثر ہوئے ہیں اور بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔

Scroll to Top