غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، حماس و اسرائیل کے مذاکرات آج مصر میں ہونگے

اسلام247 : غزہ میں مہلک اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں، جب کہ حماس اور اسرائیل کے وفود آج مصر میں ثالثوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے جمع ہونے والے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ’تیزی سے کارروائی کریں‘۔

الجزیرہ کے مطابق، حماس کا کہنا ہے کہ اس کا وفد خلیل الحیہ کی قیادت میں مصر میں موجود ہے، جو گروپ کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیں اور گزشتہ ماہ قطر میں اسرائیلی قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے تھے۔

غزہ میں اتوار کے روز کم از کم 24 فلسطینی شہید ہوئے، جب کہ محصور علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک شہری بھوک سے جاں بحق ہوا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے، اور اس کی فوج کے سربراہ کے مطابق “عملی صورتِ حال میں تبدیلی آئی ہے۔”

اب تک اسرائیلی حملوں میں 67 ہزار 139 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 69 ہزار 583 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں میں اسرائیل میں 1,139 افراد ہلاک اور تقریباً 200 افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔


ٹرمپ کا مذاکرات تیزی سے مکمل کرنے پر زور

ٹرمپ نے پیر کے روز ہونے والے اہم مذاکرات سے قبل ثالثوں پر زور دیا کہ وہ “تیزی سے آگے بڑھیں”۔ ان مذاکرات کا مقصد غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع امن معاہدہ طے کرنا ہے۔

امن معاہدے کی امیدیں اس وقت بڑھ گئیں جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا کہ “یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان اس ہفتے کیا جا سکتا ہے۔”

یہ بھی پڑھیں : یمن نے سپرسونک میزائل سے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا، بن گورین ایئرپورٹ بند

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر کہا کہ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور “پہلا مرحلہ اس ہفتے مکمل ہو جانا چاہیے۔”
ان کا کہنا تھا کہ “وقت بہت اہم ہے، ورنہ بڑے پیمانے پر خونریزی ہوگی — جو کوئی بھی نہیں چاہتا۔”


ٹرمپ کی اپیل کے باوجود اسرائیلی بمباری جاری

ٹرمپ کی اپیل کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر سلسلہ وار حملے کیے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ایک بڑا دھماکا دکھایا گیا، جو مبینہ طور پر غزہ میں ہوا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق، اس نے “فلسطینی جنگجوؤں کو نشانہ بنایا”، جب کہ مارٹر بمباری کے نتیجے میں ایک اسرائیلی سپاہی زخمی ہوا۔ گزشتہ ماہ سے اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، تاکہ محصور علاقے کے سب سے بڑے شہر پر قبضہ کیا جا سکے۔


یورپ بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج

ایمسٹرڈیم سے استنبول تک غزہ میں نسل کشی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ اتوار کو یورپ بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے۔
سب سے بڑا مظاہرہ نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں ہوا، جہاں ڈھائی لاکھ افراد نے “میوزیم اسکوائر” کو بھر دیا۔

استنبول میں بھی عوام کا وسیع ہجوم صوفیہ مسجد سے گولڈن ہورن تک مارچ کرتا ہوا پہنچا، جب کہ کشتیاں ترک اور فلسطینی جھنڈوں سے سجی ہوئی تھیں۔
بلغاریہ، مراکش اور اسپین میں بھی ہزاروں شہریوں نے اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور فلسطینی بچوں کے قتل عام کی مذمت کی۔

حماس ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ کون ہیں؟

خلیل الحیہ غزہ کے باہر حماس کے سب سے سینئر زندہ رہنے والے رہنما ہیں، جو مصر میں جاری مذاکرات میں تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں۔
64 سالہ الحیہ حماس کے سیاسی دفتر (پولٹ بیورو) کے رکن ہیں اور 2006 میں فلسطینی قانون ساز کونسل کے لیے منتخب ہوئے۔

انہوں نے جنگ کے دوران اپنے کئی خاندان کے افراد کھو دیے، جن میں ان کے بیٹے ہمام اور دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لباد شامل ہیں۔

حماس کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں الحیہ نے کہا:

“میں جو روز غزہ میں قتل و تباہی دیکھتا ہوں، وہ مجھے اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا درد بھلا دیتی ہے۔”

اسرائیلی وفد کے سربراہ رون ڈرمر کون ہیں؟

رون ڈرمر، اسرائیل کے وزیرِ اسٹریٹیجک امور اور وزیراعظم نیتن یاہو کے قریبی مشیر ہیں۔ وہ 2013 سے 2021 تک امریکا میں اسرائیلی سفیر رہ چکے ہیں۔
میامی میں پیدا ہونے والے ڈرمر نے ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں سے گہرے تعلقات قائم کیے اور عرب–اسرائیل تعلقات معمول پر لانے والے منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا۔

مصر میں جاری مذاکرات میں وہ نیتن یاہو کے غزہ کے مستقبل سے متعلق وژن کے مطابق موقف پیش کر رہے ہیں۔

Scroll to Top