امریکی صدر ٹرمپ کا سخت انتباہ: حماس نے اقتدار نہ چھوڑا تو “صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا”

اسلام247 : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس نے اقتدار چھوڑنے اور غزہ کا کنٹرول دینے سے انکار کیا تو اسے صفحۂ ہستی سے مٹادیا جائے گا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ اگر حماس نے اقتدار چھوڑنے اور غزہ کا کنٹرول دینے سے انکار کیا تو اسے “مکمل تباہی” کا سامنا کرنا پڑے گا اور “صفحۂ ہستی” سے مٹا دیا جائے گا۔ صدر کا یہ بیان اُن کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے جو اُن کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

جب سی این این کے اینکر جیک ٹیپر نے ٹرمپ سے ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے پوچھا کہ اگر حماس اقتدار میں رہنے پر اصرار کرے تو کیا ہوگا، تو ٹرمپ نے جواب دیا: “مکمل تباہی!” جیک ٹیپر نے سوال کیا کہ سینیٹر لنڈسی گراہم کے مطابق حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے کو مؤثر طور پر مسترد کر دیا ہے کیونکہ وہ غیر مسلح ہونے سے انکار کر رہی ہے، غزہ کو فلسطینی کنٹرول میں رکھنے پر اصرار کر رہی ہے، اور یرغمالیوں کی رہائی کو مذاکرات سے مشروط کر رہی ہے—تو کیا گراہم غلط ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ “ہم دیکھیں گے۔ وقت ہی بتائے گا!” اور کہا کہ انہیں جلد ہی اس بات پر وضاحت کی امید ہے کہ آیا حماس واقعی امن کے لیے پرعزم ہے یا نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ میں بمباری ختم کرنے اور صدر کے وسیع تر وژن کی حمایت پر متفق ہیں، تو ٹرمپ نے کہا: “ہاں، بی بی (نیتن یاہو) اس پر متفق ہیں۔” امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ ان کا جنگ بندی منصوبہ جلد حقیقت بنے گا اور اس کے حصول کے لیے وہ “سخت محنت کر رہے ہیں۔”

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ پریس کانفرنس میں 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے درجنوں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے، حماس کو غیر مسلح بنانے کی شق شامل ہے، اور غزہ کی انتظامیہ کے لیے ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ کمیٹی تجویز کی گئی ہے۔ منصوبے میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے راستے کا ذکر موجود ہے، البتہ اس کی واضح ضمانتیں فراہم نہیں کی گئیں۔

بعد ازاں حماس نے اس منصوبے کے ساتھ بعض نکات پر مثبت رویّہ ظاہر کیا اور مذاکرات میں شامل ہونے کی آمادگی کا اظہار کیا، مگر حماس کے بعض سینئر رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ بعض شرائط جیسے 72 گھنٹوں میں یرغمالیوں اور لاشوں کی حوالگی عملی طور پر مشکل ہوں گی اور غزہ کے مستقبل سے متعلق فیصلے کو وسیع قومی مشاورت میں طے کیا جانا چاہیے۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ اپنی مزاحمتی صلاحیتوں اور اسلحے کے حوالے سے تمام معاملات پر مذاکرات کرے گی مگر غیر مسلح ہونے سے پہلے اسرائیلی قبضے کے خاتمے کو بنیادی شرط مانے گی۔

Scroll to Top