اسلام247 : جارجیا میں مغرب نواز مظاہرین کا صدارتی محل پر دھاوا، پولیس کا طاقت کا استعمال
جارجیا میں مغرب نواز اپوزیشن کے مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے، جب مظاہرین صدارتی رہائش گاہ کی رکاوٹیں عبور کر کے کمپاؤنڈ میں داخل ہو گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق، دارالحکومت تفلیس میں صدر کی رہائش گاہ کے باہر ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے اور یورپی یونین و یوکرین کے جھنڈے لہراتے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگائے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرچ پاؤڈر اسپرے اور پانی کی توپ کا استعمال کیا، جبکہ کئی مقامات پر پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات بھی پیش آئے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا شکاگو میں فوجی تعیناتی کا حکم، عدالت نے پورٹ لینڈ میں کارروائی روک دی
صدارتی محل کے قریب نقاب پوش مظاہرین نے کرسیاں اور میزیں جلا دیں۔ ان کے ہاتھوں میں یورپی یونین اور یوکرین کے جھنڈے تھے، اور وہ “یورپ ہمارا مستقبل” کے نعرے لگا رہے تھے۔
وزارتِ داخلہ جارجیا نے تصدیق کی ہے کہ تفلیس میں ہونے والا اجتماع ’’قانونی حد سے تجاوز‘‘ کر گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق، اسپیشل فورسز صدارتی محل کے اطراف تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ مظاہرین کو قابو میں لایا جا سکے۔
پولیس نے کہا کہ ’’مظاہرین کے حملوں اور پتھراؤ کے باوجود، سکیورٹی فورسز نے سڑکوں اور صدارتی احاطے پر کنٹرول برقرار رکھا ہے۔‘‘
ذرائع کے مطابق، احتجاج کا آغاز یورپی یونین سے قریبی تعلقات کے مطالبے سے ہوا تھا، مگر جلد ہی مظاہرین نے حکومت کے روس نواز جھکاؤ کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔