ٹرمپ کا شکاگو میں فوجی تعیناتی کا حکم، عدالت نے پورٹ لینڈ میں کارروائی روک دی

اسلام247 : امریکی صدر ٹرمپ کا شکاگو میں فوجی تعیناتی کا حکم، عدالت نے پورٹ لینڈ میں روک دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک وفاقی اہلکار کی جانب سے مبینہ طور پر مسلح ڈرائیور پر فائرنگ کے بعد شکاگو میں فوجی دستے تعینات کرنے کی اجازت دے دی، جبکہ وفاقی عدالت نے پورٹ لینڈ میں فوج بھیجنے کی کوشش کو روک دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ملک بھر میں بڑھتے ہوئے بحران کے دوران ٹرمپ کی جرائم اور ہجرت کے خلاف عسکری مہم کو اپوزیشن ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے، جو صدر پر آمریت پسند طرزِ عمل اپنانے کا الزام لگا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبیگیل جیکسن نے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے وفاقی افسران اور اثاثوں کے تحفظ کے لیے 300 نیشنل گارڈز مین کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ریپبلکن رہنما کئی ہفتوں سے مقامی قیادت کی مخالفت کے باوجود شکاگو میں فوجی بھیجنے پر زور دے رہے تھے۔

انہوں نے کہا، ’’صدر ٹرمپ امریکی شہروں میں پھیلتی لاقانونیت پر خاموش نہیں رہیں گے۔‘‘

الینوئے کے سینیٹر ڈِک ڈربن نے اس فیصلے کو “قومی تاریخ کا شرمناک باب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’صدر کا مقصد جرائم سے لڑنا نہیں بلکہ عوام میں خوف پھیلانا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں : ایچ ون-بی ویزا فیس کے خلاف امریکی عدالت میں یونینز و مذہبی گروپوں کا مقدمہ

شکاگو اور پورٹ لینڈ، ٹرمپ انتظامیہ کی چھاپہ مار مہم کے تازہ ترین ہدف بنے ہیں، جو اس سے قبل لاس اینجلس اور واشنگٹن میں فوجی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔

ان کارروائیوں میں نقاب پوش اور مسلح اہلکار بغیر نشانی والی گاڑیوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بناتے رہے، جس کے نتیجے میں احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے۔

صدر ٹرمپ نے بارہا پورٹ لینڈ کو ’’جنگ زدہ شہر‘‘ قرار دیا، تاہم ہفتے کے روز امریکی ضلعی جج کیرن امیرگٹ نے قرار دیا کہ ’’صدر کا فیصلہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔‘‘

جج نے کہا کہ اگرچہ وفاقی املاک پر کچھ حملے ہوئے، مگر ٹرمپ انتظامیہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ یہ واقعات بغاوت یا حکومت کے خاتمے کی منظم کوشش کا حصہ تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورٹ لینڈ کے احتجاجات سے “بغاوت کا خطرہ” پیدا نہیں ہوا اور ایسے حالات سے مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے بخوبی نمٹ سکتے ہیں۔

اوریگن کے سینیٹر رون وائڈن نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا، ’’یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لیڈروں کی ضرورت نہیں جو وفاقی فوجی بھیج کر ریاست میں تشدد بھڑکائیں۔‘‘

وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے عدالت کے فیصلے کو ’’قانونی بغاوت‘‘ قرار دیتے ہوئے اوریگن کے مقامی رہنماؤں پر وفاقی حکومت کے خلاف منظم سازش کا الزام لگایا۔

⚔️ ’آپریشن مڈوے بلیٹز‘

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے مطابق ہفتے کے روز، شکاگو میں ایک وفاقی افسر نے اُس وقت فائرنگ کی جب قانون نافذ کرنے والی گاڑیاں ’’10 گاڑیوں کے درمیان پھنس گئیں‘‘۔

محکمہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری ٹریشیا میک لافلن نے بتایا کہ اہلکار اپنی گاڑیاں ہٹا نہیں سکے اور باہر نکلنے پر مجبور ہوئے۔ ایک ڈرائیور، جس نے مبینہ طور پر سرکاری گاڑی کو ٹکر ماری، نیم خودکار ہتھیار سے مسلح تھا۔

ان کے مطابق، اہلکاروں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔
اے ایف پی کے مطابق، ڈرائیور زخمی حالت میں اسپتال پہنچی۔
شکاگو پولیس کے ترجمان لیری میرٹ نے تصدیق کی کہ خاتون کو زخمی حالت میں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔

میک لافلن نے شکاگو پولیس پر الزام لگایا کہ انہوں نے ’’جائے وقوعہ چھوڑ دی‘‘ اور علاقہ محفوظ بنانے میں تعاون نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ موقع پر پہنچی لیکن فائرنگ کی تحقیقات وفاقی حکام کے سپرد ہیں۔

فائرنگ کے بعد مظاہرین نے “آئس واپس جاؤ!” کے نعرے لگائے۔ پولیس نے آنسو گیس اور پیپر بالز کا استعمال کیا، تاہم کچھ دیر بعد مظاہرین دوبارہ جمع ہو گئے۔

محکمہ کے مطابق، یہ فائرنگ “آپریشن مڈوے بلیٹز” کے دوران پیش آنے والا پہلا واقعہ نہیں۔
بارا (12)ستمبر کو آئس اہلکاروں نے ایک ٹریفک اسٹاپ کے دوران تارکِ وطن سیلویریو ویلیگاس گونزالیز کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

Scroll to Top