ایچ ون-بی ویزا فیس کے خلاف امریکی عدالت میں یونینز و مذہبی گروپوں کا مقدمہ

اسلام247 : امریکی عدالت میں ٹرمپ کے ایچ ون-بی ویزا فیس فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر

یونینز، آجر تنظیموں اور مذہبی گروپوں کے ایک وسیع اتحاد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ ون-بی ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس عائد کرنے کے فیصلے کو روکنے کے لیے سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق، یہ مقدمہ اُس صدارتی فرمان کے خلاف پہلا چیلنج ہے، جو ٹرمپ نے دو ہفتے قبل جاری کیا تھا۔ ریپبلکن صدر نے یہ اقدام امریکا میں امیگریشن کو مزید محدود کرنے کی پالیسی کے تحت کیا۔

اتحاد کا مؤقف ہے کہ نئی فیس غیر قانونی ہے اور یہ امریکا میں جدت، تحقیق اور معاشی ترقی کے اہم ذرائع کو نقصان پہنچائے گی۔

اتحاد نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر فوری ریلیف نہ دیا گیا تو اسپتال طبی عملے سے محروم ہو جائیں گے، گرجا گھر اپنے پادری کھو دیں گے، کلاس روم اساتذہ سے خالی ہو جائیں گے، اور صنعتیں اپنے کلیدی موجدوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔

مدعیوں میں یونائیٹڈ آٹو ورکرز یونین، امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز، ایک نرس بھرتی ایجنسی اور متعدد مذہبی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر کو اگرچہ کچھ غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن وہ قانونی ویزا پروگرام کے ڈھانچے کو تبدیل یا منسوخ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی آئین کے مطابق فیس یا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، صدر کے پاس ایسا یکطرفہ اختیار نہیں۔

مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ حکم نامہ ایچ ون-بی ویزا پروگرام کو “ادائیگی کر کے حصہ لینے” یا “قومی مفاد” کی بنیاد پر استثنیٰ حاصل کرنے والے نظام میں بدل دیتا ہے، جس سے امتیازی سلوک اور بدعنوانی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ سرکاری ایجنسیوں نے نئے اقدامات کے نفاذ سے قبل ضابطہ جاتی عمل (regulatory process) کی پاسداری نہیں کی اور نہ ہی یہ غور کیا کہ بھاری فیسوں سے امریکا میں جدت اور ترقی کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top