قاہرہ میں پیر سے تکنیکی مذاکرات: ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کا پہلا مرحلہ شروع ہوگا

اسلام247: امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر تکنیکی مذاکرات پیر سے قاہرہ میں شروع ہوں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں تکنیکی مذاکرات پیر (6 اکتوبر) سے قاہرہ میں شروع ہوں گے۔ الجزیرہ عربی کے حوالے سے بتائے گئے باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق حماس کی مذاکراتی ٹیم دوحہ سے قاہرہ پہنچ کر مذاکرات میں حصہ لے گی اور ایک قطری وفد بھی معاہدے کی تکمیل کے لیے قاہرہ روانہ ہوگا۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں تمام اسرائیلی قیدیوں کی زندہ یا مردہ حالت میں واپسی شامل ہے، اور ان کی واپسی کے بدلے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی وفد قاہرہ روانہ ہوگا تاکہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے نفاذ کی ٹائم لائن پر تفصیلی بات چیت کی جائے۔

یروشلم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی ٹیم قیدیوں کی رہائی کے طریقہ کار اور وقت کا تعین کرے گی اور امریکی تجویز میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم یا تو امریکہ کے پلان کے تحت ہو گا یا اسرائیلی فوجی کارروائی سے، مگر ہر صورت میں مقصد حاصل کیا جائے گا۔

قبل ازیں مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی صدر نے 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اس 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی عسکری قوتیں ختم کرے، غزہ کے انتظام کے لیے ٹیکنوکریٹس کی ایک عبوری انتظامیہ قائم کی جائے، اور قیدیوں کی تبادلہ کاری کے ذریعے جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے کو ممکن بنایا جائے۔ منصوبے میں فلسطینی خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی جانب راستے کا ذکر ہے مگر اس کی کوئی سخت ضمانت شامل نہیں کی گئی۔

مذاکرات کی پیش رفت اور حتمی معاہدے کی تفصیلات قاہرہ سے موصول ہونے والی خبریں سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گی، جبکہ علاقائی و بین الاقوامی شراکت دار اس عمل کی نگرانی اور حمایت کے لیے بیک وقت مصروف عمل ہیں۔

Scroll to Top