ایران کا بڑا اقدام: اسرائیل سے تعلقات کے الزام میں 7 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

اسلام247 : ایران نے ہفتے کے روز اسرائیل سے رابطہ رکھنے والے 7 مجرمان کو سزائے موت دے دی۔
ان افراد کو چند سال قبل سیکیورٹی اہلکاروں اور ایک مذہبی عالم کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی ’میزان‘ نے اطلاع دی کہ 6 افراد عرب نسلی اقلیت کے علیحدگی پسند تھے جن پر خرمشہر، صوبہ خوزستان کے جنوب مغربی شہر میں مسلح حملے اور بم دھماکوں کے الزامات تھے۔ ان حملوں میں 4 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی اپیل کے باوجود اسرائیلی بمباری تیز، درجنوں فلسطینی شہید و زخمی

ساتواں شخص سامان محمدی خیارہ ایک کرد شہری تھا، جسے 2009 میں کرد شہر سنندج میں حکومت نواز سنی عالم ماموستا شیخ الاسلام کے قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

’میزان‘ کے مطابق ان افراد کے اسرائیل سے روابط تھے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ تہران اکثر نسلی اقلیتوں کے خلاف داخلی اختلاف کو غیر ملکی حمایت یافتہ ظاہر کرنے کے لیے ایسے الزامات عائد کرتا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے محمدی خیارہ کے مقدمے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ قتل کے وقت صرف 15 یا 16 سال کا تھا، 19 سال کی عمر میں گرفتار ہوا اور پھانسی سے قبل ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قید میں رہا۔

مزید یہ کہ کارکنوں کے مطابق اس کی سزا تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے اعترافی بیانات پر مبنی تھی، جو ایسا طریقہ ہے جس پر ایرانی عدالتوں کو باقاعدگی سے استعمال کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، ایرانی حکام نے 2025 میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو پھانسی دی ہے، جو گزشتہ کم از کم 15 برسوں میں تنظیم کی جانب سے ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔

Scroll to Top