اسلام247 : پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ الحمدللہ، ہم جنگ بندی کے اُس مقام کے قریب ہیں جہاں ہم اس نسل کُشی کے آغاز کے بعد سے کبھی نہیں پہنچے تھے۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہنے کا عزم رکھا ہے اور ہمیشہ اُن کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، تُرکیہ، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادتوں کا شکریہ ادا کرنا لازم ہے، جنہوں نے فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ حماس کے جاری کردہ بیان نے جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے، جسے کسی صورت ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان شا اللہ، پاکستان اپنے تمام شراکت داروں اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین میں دائمی امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
پاکستان کا حماس کے فیصلے کا خیر مقدم
پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے پر حماس کے ردعمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اہم موقع ہے کہ فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، غزہ میں معصوم فلسطینیوں کے خونریزی کو روکا جائے، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اور دیرپا امن کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی راہ ہموار کی جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان غزہ میں امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ یہ ایک پائیدار جنگ بندی اور منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کا باعث بنے گا۔ پاکستان اس عمل میں تعمیری اور بامعنی کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ جنگ بندی کا امکان، ٹرمپ کا امن منصوبہ اور حماس کا جواب
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان فلسطینی مقصد کی اپنی اصولی حمایت کی تجدید کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے، جو اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے تحت 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار، قابلِ عمل اور مسلسل ریاستِ فلسطین قائم ہونی چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، جیسا کہ بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کہا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ شب حماس کی جانب سے غزہ میں امن کے لیے عالمی سطح کے منصوبے پر زیادہ تر مثبت ردعمل کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ حماس امن کے لیے تیار ہے اور تل ابیب کو غزہ پر فوری بمباری بند کرنی چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شب اعلان کیا تھا کہ فلسطینی گروپ ’حماس‘ نے ان کے 20 نکاتی امن منصوبے پر ’زیادہ تر مثبت‘ ردعمل ظاہر کیا ہے اور یہ کہ گروپ امن کے لیے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر غزہ پر حملے بند کرے۔
پاکستان گزشتہ ہفتے غزہ میں جنگ بندی اور امن کی کوششوں میں فعال انداز میں شریک ہوا تھا، اس دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی کی تھی۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے غزہ امن منصوبے کے نکات جاری کیے، جس پر پاکستان نے پہلے اس کا خیر مقدم کیا، تاہم بعض نکات میں ترامیم سامنے آنے پر پاکستان نے تحفظات ظاہر کیے اور واضح کیا کہ جب تک مسلم ممالک کی آٹھ ترامیم شامل نہیں کی جاتیں، پاکستان اس منصوبے کو قبول نہیں کرے گا۔
سات(7) اکتوبر 2023 کے بعد دو سال مکمل ہونے کو ہیں، جب اسرائیل نے حماس کی جانب سے اپنے شہریوں پر حملے کے بعد غزہ پر جنگ مسلط کی تھی۔ اس جنگ میں اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور دو لاکھ کے قریب زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ غزہ شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے فلسطینیوں کے قتلِ عام کو اسرائیل کی جانب سے نسل کُشی قرار دے چکے ہیں۔