جعلی شناختوں اور مصنوعی ذہانت سے ایران مخالف مہم، اسرائیلی سرپرستی سامنے آگئی

اسلام247: اسرائیلی فنڈنگ سے فارسی زبان میں آن لائن مہمات، رضا پہلوی کی شبیہ بہتر بنانے اور ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش

یروشلم کے اخبارات اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سِٹیزن لیب کی متوازی تحقیقات کے مطابق اسرائیل کی فنڈنگ سے فارسی زبان میں آن لائن مہمات نے جعلی سوشل میڈیا شناختوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے ایران کے سابق بادشاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی شبیہ بہتر بنانے اور ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق ان مہمات میں اوتارز (جعلی شناختوں) کا استعمال کیا گیا، جو ایرانی شہریوں کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ مہمات شاہی نظام کی بحالی کے حق میں آوازیں بلند کر رہی تھیں اور یہ اس وقت چلائی گئیں جب اسرائیل ایران پر حملے کر رہا تھا اور تہران کی ایوین جیل پر فضائی حملے کیے گئے تھے۔

اسرائیلی اخبار دی مارکر اور ہارٹز کے مشترکہ انکشاف کے مطابق یہ ایک بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مہم تھی، جو اسرائیل سے چلائی جا رہی تھی اور ایک نجی ادارے کی مالی مدد سے کام کر رہی تھی، جسے اسرائیلی حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی۔

منصوبے سے واقف ذرائع کے مطابق فارسی بولنے والے افراد کو ایکس اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر جعلی اکاؤنٹس چلانے کے لیے بھرتی کیا گیا تھا، جہاں وہ مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرتے ہوئے پیغامات اور مواد تخلیق کرتے تھے۔

یہ نتائج 2023 کے اوائل میں رضا پہلوی کے اسرائیل کے دورے کے تناظر میں سامنے آئے، اس دورے کے دوران، جس کی میزبانی اُس وقت کی انٹیلی جنس وزیر گیلا گملیئل نے کی تھی، پہلوی نے ایران میں پرامن تبدیلی کی وکالت کی اور بیرونی مدد کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔

پریس کانفرنس میں رضا پہلوی نے کہا تھا کہ کوئی بھی تحریک بین الاقوامی حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جب ان سے دورے کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صحافیوں سے کہا: جواب آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے، سوشل میڈیا دیکھیں۔

سٹیزن لیب کی رپورٹ

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سٹیزن لیب کے محققین نے اسرائیل نواز فارسی زبان کا ایک اور اثر و رسوخ پیدا کرنے والا نیٹ ورک دریافت کیا، جو ان کے اندازے کے مطابق براہِ راست اسرائیلی حکومت یا اس کے کسی ٹھیکیدار کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔

لیب کی رپورٹ “پرزن بریک” میں 50 سے زائد جعلی اکاؤنٹس کا نیٹ ورک شناخت کیا گیا، جن میں سے بیشتر کی پروفائل تصاویر اے آئی سے بنائی گئی تھیں۔ یہ نیٹ ورک 2024 کے اوائل میں فعال ہوا اور اس کی سرگرمیاں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیں۔

تئیس (23)جون کو ایوین جیل پر حملے کے دوران، ان اکاؤنٹس نے صبح 11:52 بجے دھماکوں کے بارے میں پوسٹ کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ میڈیا کی ابتدائی رپورٹس سے بھی پہلے۔ اس کے فوراً بعد، نیٹ ورک نے اے آئی سے تیار کردہ ایک جعلی ویڈیو پھیلائی، جس میں جیل پر دھماکے دکھائے گئے تھے، اور جسے بعد میں بین الاقوامی میڈیا نے بھی اٹھا لیا۔

سٹیزن لیب نے لکھا کہ یہ غیر ممکن ہے کہ کسی تیسرے فریق کو اسرائیلی فوج کے منصوبوں کا پہلے سے علم ہو اور وہ اتنی جلدی ایسا مواد تخلیق کر سکے۔ حملے کے بعد، نیٹ ورک نے ایرانی شہریوں کو جیل کی طرف مارچ کرنے کی ترغیب دی تاکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو آزاد کرا سکیں، جسے ممکنہ طور پر فسادات بھڑکانے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

جعلی مواد اور عوامی ردعمل

ان مہمات نے دیگر جعلی مواد بھی پھیلایا، جیسے ایک ایرانی گلوکار کی ڈیپ فیک ویڈیو اور بی بی سی فارسی کی جعلی اسکرین شاٹ، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ملک چھوڑ رہے ہیں۔ بعد میں بی بی سی فارسی نے واضح کیا کہ ایسی کوئی خبر شائع نہیں ہوئی۔

رضا پہلوی کی حمایت کے ان اقدامات کو کچھ ماہرین شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ تل ابیب کے انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز سے وابستہ راز زیمت نے کہا کہ اگرچہ ایرانی عوام تبدیلی چاہتے ہیں، لیکن بادشاہت کی بحالی کوئی مقبول مطالبہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانیہ دراصل آیت اللہ خامنہ ای کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایران کو دوبارہ بادشاہت اور غلام ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

اے آئی اور ڈیجیٹل پراپیگنڈا

ان آپریشنز میں جدید حربے استعمال کیے گئے، جن میں ایک ویڈیو بھی شامل تھی، جس میں نیتن یاہو، گملیئل اور رضا پہلوی کو آزاد تہران کی سڑکوں پر چلتے دکھایا گیا تھا۔ یہ ویڈیو غیر معمولی حد تک وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی۔

نیٹ ورک نے حقیقی احتجاجی نعروں کو بھی استعمال کیا، جیسے “مرگ بر خامنہ ای”، تاکہ اپنے پیغامات کو عوامی تحریک کے رنگ میں پھیلایا جا سکے۔

سٹیزن لیب کے محقق البرتو فِتارَیلی نے خبردار کیا کہ اگرچہ آمرانہ حکومتیں ایسے آلات استعمال کرتی ہیں، لیکن جمہوری حکومتوں کو ان کی نقالی سے گریز کرنا چاہیے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ دونوں مہمات کے درمیان تعلق موجود تھا، کیونکہ بعض اکاؤنٹس نے #KingRezaPahlavi ہیش ٹیگ استعمال کیا اور پہلوی کی تقاریر شیئر کیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ آپریشن دراصل پہلوی کی تشہیر سے جڑا ہوا تھا۔

Scroll to Top