ٹرمپ کی حماس کو دھمکی: غزہ منصوبہ قبول کرو یا تباہ کن کارروائی کے لیے تیار رہو

اسلام247 : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ حماس کے پاس غزہ معاہدہ قبول کرنے کے لیے اتوار کی شام 6 بجے تک کی مہلت ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو اتوار کی شام تک غزہ منصوبے پر معاہدہ کرنے کی مہلت دیتے ہوئے اسے ’آخری موقع‘ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق اتوار کی شام 6 بجے تک حماس کے ساتھ معاہدہ طے پانا ضروری ہے۔

انہوں نے پیغام میں دھمکی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو غزہ میں باقی حماس کارکنوں کے خلاف ’ایسا قیامت خیز طوفان‘ ٹوٹ پڑے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ٹرمپ نے ساتھ ہی معصوم فلسطینیوں سے کہا کہ وہ غزہ کے محفوظ علاقوں میں منتقل ہو جائیں، تاہم صدر نے واضح نہیں کیا کہ وہ محفوظ علاقے کہاں ہیں۔

حماس کے قریبی ذرائع نے یکم اکتوبر کو بتایا تھا کہ تنظیم اس تجویز کا غور کر رہی ہے۔ جب رائٹرز نے 2 اکتوبر کی شب حماس کے ایک عہدیدار سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی حتمی جواب نہیں دیا گیا اور معاملے پر بحث جاری ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ حماس نے ’فلسطینی ردعمل‘ ترتیب دینے کے لیے عرب ثالثوں، ترکی اور دیگر فلسطینی دھڑوں سے مشاورت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حماس کا امریکی جنگ بندی منصوبے پر عدم اعتماد، لڑائی جاری رکھنے کا عندیہ، بی بی سی

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ثالثوں نے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ سے رابطہ کیا ہے جنہوں نے عندیہ دیا کہ وہ امریکا کے نئے جنگ بندی منصوبے سے متفق نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس غزہ منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس میں یہ شرط رکھی گئی کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی آئندہ حکمرانی میں اس کا حصہ نہ ہوگا۔ منصوبے میں 72 گھنٹوں کے اندر یرغمالیوں کی رہائی، غزہ کی غیر مسلح کاری، زیرِ زمین سرنگوں اور ہتھیار بنانے کی تنصیبات کا خاتمہ اور عبوری انتظامی انتظامات جیسے نکات شامل ہیں۔

اب تک حماس نے باضابطہ طور پر منصوبے کو قبول یا مسترد نہیں کیا، اور ثالثی کوششیں جاری ہیں۔

Scroll to Top