پاکستان کے نائب وزیراعظم: فلسطین پر قائداعظم کی پالیسی پر قائم، ٹرمپ کا منصوبہ ہمارا نہیں

اسلام247: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطین کے حوالے سے قائداعظم کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں، امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ 20 نکات ہمارے نہیں، فلوٹیلا میں شامل پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہیں، سینیٹر مشتاق کی رہائی کے لیے یورپی ممالک سے مدد لے لی، غزہ میں امن بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے ہی ممکن ہوگا۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں قوم کی بھرپور نمائندگی کی۔ انہوں نے کشمیر کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ اٹھایا، عالمی معاملات پر گفتگو کی اور موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ بھی اجاگر کیا۔ اس موقع پر اسرائیل کا نام لے کر اس کی مذمت بھی کی گئی۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس سے قبل ہماری بات ہوئی تھی کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب ممالک غزہ میں خونریزی رکوانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ کچھ ممالک کے ساتھ مل کر امریکا، جو آخری امید ہے، اسے انگیج کیا جائے تاکہ معصوم جانوں کی خونریزی، بھوک سے اموات اور مغربی کنارے کو ہڑپ کرنے کے منصوبے کو روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 64 ہزار افراد شہید اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کی درجنوں قراردادوں کے باوجود خونریزی جاری ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ غزہ انسانوں کے قبرستان کے ساتھ ساتھ عالمی ضمیر کا قبرستان بھی بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جہاد اسلامی فلسطین: ٹرمپ کا امن منصوبہ فلسطینی قوم پر حملے کا نسخہ ہے

اسحٰق ڈار نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات سے ایک روز قبل 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کی غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں کہا گیا کہ اگر ہم اس قتل و غارت کو نہیں روک سکتے تو جنرل اسمبلی کا کوئی فائدہ نہیں۔ صدر ٹرمپ نے ہماری باتوں پر مثبت ردعمل دیا اور کہا کہ آپ میری ٹیم کے ساتھ بیٹھیں اور کوئی قابلِ عمل حل پیش کریں۔

انہوں نے بتایا کہ قطری سفارتخانے میں ایک خفیہ ملاقات ہوئی جس میں ٹرمپ کی ٹیم نے 20 نکاتی پرپوزل دیا۔ ہم نے مشاورت کے بعد اپنا ڈرافٹ امریکا کو بھجوایا۔ بعدازاں امریکا نے انہی نکات پر مبنی منصوبے کا اعلان کر دیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہماری بعض ہنگامی تجاویز تسلیم کی گئیں۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ بیان میں اسرائیل کا نام بھی ہٹوا دیا گیا۔ 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ امن کے قیام، فلسطینی عوام کی بے دخلی روکنے، غزہ کی تعمیر نو اور دو ریاستی حل کے لیے امریکا کے ساتھ شراکت داری پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاستی پالیسی دو ریاستی حل پر مبنی ہے، کسی فرد واحد کی نہیں۔ مغربی کنارہ فلسطینی ریاست کا حصہ ہوگا اور اسے اسرائیل کے ساتھ شامل نہیں کیا جا سکتا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ غزہ جانے والے فلوٹیلا کی 45 میں سے 22 کشتیوں کو روکا گیا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی گرفتار ہیں۔ ہم نے ایک بااثر یورپی ملک کو شامل کیا ہے تاکہ اسرائیل سے فوری رہائی ممکن ہو۔

مریم نواز کا معافی مانگنے سے انکار، پیپلزپارٹی کا واک آؤٹ

قبل ازیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے معافی مانگنے سے انکار پر پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ بعدازاں حکومتی ٹیم کے منانے پر ارکان واپس آگئے۔

اس موقع پر اسحٰق ڈار نے کہا کہ مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں، الزام تراشی کسی کے بھی حق میں فائدہ مند نہیں۔

ادھر اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری میں احتجاج کیا۔

Scroll to Top