اسلام247 : اسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر تشدد اور املاک کو نقصان
آزاد کشمیر میں تشدد کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لیے وفاقی پولیس اہلکار نیشنل پریس کلب کے اندر گھس گئے۔
ڈان نیوز کے مطابق، آزاد کشمیر میں تشدد کے خلاف چند مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس اہلکاروں کے وہاں پہنچنے پر کچھ مظاہرین پریس کلب کے اندر چلے گئے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار بھی زبردستی اندر داخل ہوگئے۔
اس دوران اسلام آباد پولیس اہلکاروں نے نہ صرف مظاہرین کو گرفتار کیا بلکہ اندر موجود صحافیوں اور کلب ملازمین پر بھی تشدد کیا اور ایک فوٹوگرافر کا کیمرا بھی توڑ دیا۔ پولیس اہلکاروں نے کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ بھی کی۔
صحافتی تنظیموں کا اظہار مذمت
کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے اپنے مشترکہ بیان میں اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے کی مذمت کی ہے۔
صحافتی تنظیموں نے کلب ملازمین، فوٹوگرافرز اور ویڈیو جرنلسٹس پر پولیس تشدد کو دہشت گردی قرار دیا اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد پریس کلب پر دھاوا صحافیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ صحافیوں کی کردار کشی، انہیں دباؤ میں لانے اور اظہارِ رائے کو سلب کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
مزید کہا گیا کہ میڈیا نے جنگ کے دوران ذمہ داری سے ملکی و قومی مفاد کو پیش نظر رکھا اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی۔ رپورٹرز، فری لانسرز کو دہشت گردوں سے تشبیہ دینا آزاد صحافت کے نظریے کی خلاف ورزی ہے۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا تھا کہ جرنلسٹس کے خلاف اقدامات کی ہر سطح پر مزاحمت اور آئینی و قانونی جدوجہد کا ہر آپشن استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، صدر پی ایف یو جے
نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا کہ ہم نے مارشل لا، ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس دیکھی، اُس دور میں بھی ایسے واقعات نہیں ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا یہ واقعہ معمولی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے۔ وفاقی پولیس کے اہلکاروں نے پریس کلب کے اندر داخل ہو کر املاک کو نقصان پہنچایا، کچن میں گھس کر برتن توڑے اور فوٹوگرافرز و ویڈیو جرنلسٹس پر تشدد کیا۔
افضل بٹ کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے بات کرنے کے بجائے کلب انتظامیہ اور عہدے داروں پر ہی تشدد شروع کر دیا تھا۔
صدر پی ایف یو جے نے مزید کہا کہ افسوس ناک واقعے کے خلاف ہنگامی اجلاس کی کال دی گئی ہے، جس میں مستقبل کا لائحہ عمل اور تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف حکومتی کارروائی پر بات کی جائے گی۔
وزیرِ مملکت کی غیر مشروط معافی
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس واقعے پر ہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے انٹرنل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے کچھ لوگ احتجاج کر رہے تھے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار ان کا پیچھا کرتے ہوئے کلب پہنچے۔
پس منظر
آزاد جموں و کشمیر میں 29 ستمبر سے مختلف گروہوں کے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔ خطے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران مواصلاتی نظام بھی معطل رہا تھا۔
یہ ہڑتال جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) نے مطالبات نہ ماننے پر کی تھی، جس کے دوران مختلف گروہوں نے ایک دوسرے پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
بعد ازاں وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر حکومت نے مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی تھی، تاکہ بدامنی کو کم کیا جا سکے۔ تاہم حالات کشیدہ ہیں اور 3 پولیس اہلکار بھی جھڑپوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔