اسلام247 : قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے بعض نکات ایسے ہیں جن پر وضاحت اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے دوحہ میں قائم الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کا ایک اہم مقصد جنگ کا خاتمہ ہے، مگر اس میں کچھ نکات ہیں جن پر وضاحت اور بات چیت ضروری ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ تمام فریق اس منصوبے کو تعمیری انداز میں دیکھیں گے اور جنگ ختم کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دوحہ کو اب تک حماس کا اس منصوبے پر باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا ہے اور حماس کے ردعمل کے لیے فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ قطر اور مصر نے پیر کے اجلاس میں حماس کو واضح طور پر بتایا تھا کہ ان کا اصل مقصد جنگ روکنا ہے اور ان کی اولین ترجیح غزہ میں فلسطینی عوام کی تکالیف، قحط، قتل و غارت اور بے دخلی کا خاتمہ ہے۔
قطری وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ کل جو منصوبہ پیش کیا گیا وہ اصولی نکات پر مبنی ہے، جن پر تفصیلی گفتگو اور ان کے عملی طریقۂ کار پر بعد میں بات ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر قائم رکھنے اور دو ریاستی حل تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں غزہ کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا؛ منصوبے میں یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی غیر مسلحی، اسرائیلی فوج کی بتدریج واپسی اور غزہ کے انتظام کے لیے ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے قیام جیسے نکات شامل ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور علاقے کو ناقابلِ رہائش بنانے والے حالات پیدا ہوئے ہیں۔