اسلام247 : “عالمی قافلہ صمود” غزہ کی پٹی کے ساحلوں کے قریب پہنچ رہا ہے اور منتظمین کے مطابق، توقع ہے کہ آئندہ 7 سے 10 گھنٹوں کے اندر یہ قافلہ “خطرے کے زون” میں داخل ہوگا، وہ علاقہ جس پر صہیونی ریاست کی بحری افواج کے تسلط اور کنٹرول کا زیادہ امکان ہے۔
ذرائع نے بدھ کی صبح فلسطین انفارمیشن سینٹر کے حوالے سے رپورٹ دی کہ قافلہ صمود کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قافلہ آج رات اس ممنوعہ علاقے میں داخل ہوگا جسے اسرائیل نے ممنوعہ قرار دیا ہے، اور اس قافلے کے شرکاء کی سلامتی اور جانوں کا تحفظ عالمی برادری کی نگرانی اور توجہ پر منحصر ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جہازوں کے گزر کے لیے ایک “محفوظ راہداری” قائم کی جائے اور خبردار کیا گیا کہ قافلے پر کسی بھی قسم کا حملہ یا تجاوز، فلسطینی عوام پر حملہ تصور ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : یمن: انصاراللہ کا 13 امریکی کمپنیوں اور 2 جہازوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
خبر ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق، صہیونی بحریہ قافلے کو غزہ کے ساحل تک پہنچنے سے روکنے کے لیے الرٹ پر ہے اور بعض ذرائع کے مطابق، درجنوں کنٹرول بوٹس اور بحری یونٹس کو ممکنہ کارروائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
قافلہ صمود جس میں کئی جہاز شامل ہیں، نے ستمبر کے اوائل میں اسپین کے شہر بارسلونا کی بندرگاہ سے اپنی روانگی کا آغاز کیا تھا۔ اس عالمی بیڑے میں 40 ممالک کے 500 سے زائد کارکنان شریک ہیں جن میں “فریڈم فلوٹیلا الائنس”، “گلوبل غزہ موومنٹ” اور “قافلہ صمود” شامل ہیں۔
گزشتہ بدھ کو، اس قافلے نے انکشاف کیا کہ اس کے 9 جہاز ڈرون حملوں کا نشانہ بنے جن کے دوران 12 دھماکے ہوئے اور کئی جہازوں کو مادی نقصان پہنچا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب غزہ کی پٹی پر صہیونی ریاست کا محاصرہ جاری ہے، جو مارچ (اسفند 1403) سے تمام گذرگاہوں کی بندش اور خوراک و ادویات کے داخلے کی ممانعت کے بعد مزید سخت ہو گیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، اس صورتحال نے قحط اور انسانی المیے کو جنم دیا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد، بشمول خواتین اور بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔