اسلام247 : سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور ہم کبھی اسے تسلیم نہیں کریں گے، حماس کو اصل فریق تسلیم کیے بغیر کبھی بھی مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوسکتا، وزیراعظم دیکھیں کہ ان کے جنرل اسمبلی کے خطاب اور ان کی ٹویٹ میں کتنا فرق ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بانی پاکستان نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا تھا، ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج امریکی صدر ٹرمپ جس طرح دنیا کے معاملات کا مالک بن رہا ہے اور ڈنڈا اٹھا کر اپنی بات منواتا ہے، یہ روش نہ تو سیاسی ہے اور نہ اخلاقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک خود فلسطینی فلسطین کے مسئلے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کریں، زبردستی ان پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آپ دو ریاستی حل کی بات کریں لیکن اسرائیل سرے سے فلسطین کے وجود کو قبول نہیں کر رہا اور فلسطینی کسی قیمت پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے تو ایسی صورت میں دو ریاستی حل ایک مشورہ، ایک خواہش تو ہو سکتا ہے لیکن جب تک فلسطین کے عوام کو کوئی حل قابل قبول نہیں ہے، ان پر زبردستی کوئی حل نہیں تھوپا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : جماعت اسلامی نے وزیراعظم کے غزہ پر مؤقف کو مسترد کردیا۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں جس شدت کے ساتھ خطاب کے دوران بات کی اور پھر اس کے بعد جو ان کا بیان جاری ہوا ہے، اس میں واضح فرق ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس عالمی عدالت انصاف کی توہین ہے جو نیتن یاہو کو مجرم قرار دے چکی ہے، امریکا بڑی ڈھٹائی سے مجرم کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حماس اصل فریق ہے مگر اسے اس معاملے سے لاتعلق کیا ہوا ہے، حماس کو اصل فریق تسلیم کیے بغیر کبھی بھی مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا اعلامیہ اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ تو ہو سکتا ہے لیکن یہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے یا بیت المقدس کی آزادی کا فارمولا نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ کسی مسئلے کے حل پر واقعی سنجیدہ ہیں تو پھر بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے قیام کے منصوبے سے دستبردار ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام اسلامی دنیا فلسطین کی آزادی کے لیے ایک پیج پر ہے، متفق ہے اور اگر کسی نے دو ریاستی حل کی تجویز دی بھی ہے تو اسی صورت میں قابل قبول ہوگی کہ ایک آزاد فلسطین کی ریاست ہو جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہوگا۔