روزانہ چہل قدمی سے الزائمر کا خطرہ کافی حد تک کم ہوسکتا ہے، تحقیق

اسلام247 : کیلیگری (ویب ڈیسک) — اگر آپ روزانہ چہل قدمی کو معمول بنا لیں تو دماغی تنزلی اور الزائمر امراض کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات کینیڈا کی Calgary یونیورسٹی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

اس تحقیق میں 70 سے 79 سال کی عمر کے لگ بھگ 3 ہزار افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی چہل قدمی کی عادات کا 10 سال تک جائزہ لیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ روزانہ چہل قدمی جاری رکھتے ہیں یا وقت کے ساتھ چلنے کی رفتار بڑھاتے ہیں، ان کے دماغی افعال جیسے سوچنے اور تجزیہ کرنے کی رفتار بہتر ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ چہل قدمی کا فائدہ ان افراد میں خاص طور پر زیادہ نظر آیا جن میں جینیاتی طور پر الزائمر امراض کا خطرہ زیادہ تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ لوگ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں جس سے جسمانی سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا چہل قدمی کے وقت میں اضافہ کرنا ذہنی صحت کے لیے بہترین ہے۔

الزائمر دماغی تنزلی کی سب سے سنگین قسم ہے جس میں دماغ میں نقصان دہ مواد جمع ہو کر خلیات کو متاثر کرتا ہے، نتیجے میں یادداشت کی خرابی اور جسمانی کمزوری بڑھ جاتی ہے۔ چونکہ اس بیماری کا کوئی علاج موجود نہیں، اس لیے بچاؤ ہی سب سے بہتر طریقہ ہے۔

محققین نے کہا کہ روزانہ جتنی بار آپ چہل قدمی کریں گے، اتنا ہی الزائمر سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوگا، تاہم مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ روزانہ کتنے قدم چلنا زیادہ مؤثر ہے۔

اس سے قبل 2022 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جو افراد روزانہ 3800 قدم چلتے ہیں، ان میں ڈیمینشیا کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے نتائج جلد الزائمر ایسوسی ایشن انٹرنیشنل کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے۔

Scroll to Top