اسلام247 : آسٹریلوی سینیٹر کا کہنا ہے کہ ٹونی بلیئر غزہ منصوبے کے بجائے مقدمے کا سامنا کریں
قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق، گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے آسٹریلوی سینیٹر ڈیوڈ شو بریج نے اس بات پر تنقید کی ہے کہ برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں کردار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے بعد انتظامی نگرانی کرنا ہے۔
ٹرمپ نے بلیئر کو ‘امن بورڈ’ کے رکن کے طور پر نامزد کیا ہے، جو جنگ کے بعد غزہ کے نظم و نسق کی نگرانی کرے گا۔
شو بریج نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ٹونی بلیئر کا مشرقِ وسطیٰ میں واحد کردار ملزم کے طور پر ہونا چاہیے، اس غیر قانونی اور تباہ کن عراق جنگ کو شروع کرنے پر جس نے لاکھوں زندگیاں برباد کر دی۔
اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے حقِ رہائش، بالاکرشنن راج گوپال نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے کی بدترین تفصیلات میں سے ایک عبوری اتھارٹی ہے، جس کی قیادت جنگی مجرم ٹونی بلیئر کریں گے۔
برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سابق سربراہ جیرمی کوربن نے کہا کہ غزہ کا تو ذکر ہی چھوڑیں، بلیئر کو مشرقِ وسطیٰ کے قریب بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کوربن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ٹونی بلیئر کے تباہ کن فیصلے، یعنی عراق پر حملے، نے ہزاروں بلکہ لاکھوں زندگیاں چھین لی تھیں۔