جنوبی وزیرستان کے وانا کیڈٹ کالج میں افغان خوارج کے حملے کو سیکیورٹی فورسز نے جامع اور جرأت مندانہ کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے اور آپریشن اب جامع اور حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جبکہ آخری خارجی کو جہنم واصل کرنے تک کارروائی جاری رہے گی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اندر موجود تینوں خوارج کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے- یہ لوگ ٹیلی فون پر مسلسل افغانستان سے ہدایات لے رہے ہیں، خوارج ایک عمارت میں چھپے ہوئے ہیں جو کہ کیڈٹس کی رہائش گاہوں سے بہت دور ہے۔
عمارت کی کلیئرنس کا عمل بڑی مہارت کے ساتھ سرانجام دیا جارہا ہے تاکہ کیڈٹس کی زندگی محفوظ رہ سکے اور ان کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔
واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔ دھماکے سے کالج کا مرکزی گیٹ منہدم، قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور جرأت مندانہ کارروائی کرتے ہوئے دو خوارج کو موقع پر جہنم واصل کر دیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ معصوم قبائلی بچوں پر حملہ اور دہشت گردوں کا اسلام سے یا پاکستان کی عوام کی خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔