اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں اقتدار کی تبدیلی اور فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں چار لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر کا تعلق جنوبی صوبے سویدا سے ہے۔
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ شام میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد فرقہ وارانہ تشدد اور انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں چار لاکھ سے زائد شامی شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہوگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، شام میں عبوری حکومت کے بعد نئی لہر کی آوارگی دیکھنے میں آئی ہے، جو کہ انتقامی کارروائیوں، فرقہ وارانہ جھڑپوں، کئی دہائیوں پر محیط زمینی تنازعات اور جنوبی شام کے علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق دسمبر 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان تقریبا 4 لاکھ 30 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ ملک میں موجود مختلف مذہبی اور نسلی گروہوں میں سے کوئی بھی اس تشدد اور بدامنی سے محفوظ نہیں رہا، جو اب شام کے مختلف حصوں میں پھیل چکی ہے۔
اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ سب سے زیادہ نقل مکانی صوبہ سویدا میں ہوئی، جہاں چند ماہ پہلے شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔
شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق، سویدا میں ہونے والے تشدد میں 13 سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 400 عام شہری شامل ہیں۔ ہلاک شدگان میں اکثریت کا تعلق دروزی برادری سے بتایا گیا ہے۔ بعض اندازوں میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
ملک کے دیگر علاقوں میں بھی جھڑپوں اور عدم استحکام کے باعث ہزاروں افراد کو گھروں سے نکلنا پڑا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق، 2 کروڑ 30 لاکھ کی آبادی والے شام میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد گزشتہ برسوں کے دوران ملک کے اندر یا بیرون ملک دربدر ہوچکے ہیں۔